’حماس اسرائیل کو تسلیم کرے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے کہا ہے کہ حماس اسرائیل کے حق کو ماننے اور ’امن کے ساتھ بطور ہمسایہ‘ رہنے کو تیار ہے۔ گزشتہ ہفتے شام میں حماس رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے بعد یروشلم میں بات چیت کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل حماس سے ملنا ہی نہیں چاہتے۔ امریکہ اور اسرائیل نے دمشق میں جلاوطن حماس رہنما خالد مشعل سے مسٹر کارٹر کی ملاقات پر نکتہ چینی کی ہے۔ مسٹر کارٹر نے اپنے اس دورے کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیلی کونسل برائے خارجی تعلقات سے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ شام میں میں نے حماس سے ملاقات کی بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک ایسے گروپ سے ملنے سے انکار کر دیا جسے اس عمل میں شامل کرنا ضروری ہے۔ مسٹر کارٹر نے بتایا کہ حماس نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کر کے امن سے رہنے کو تیار ہے اگر فلسطین کو منظور ہو تو۔ اسرائیل ، امریکہ اور یوروپی یونین حماس کو ایک ’دہشت گرد گروپ‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دریں اثناء اسرائیل نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فلسطینی فوٹو گرافر فادل شانا کی موت کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جو گزشتہ بدھ کو غزہ میں متعدد شہریوں کے ساتھ ہلاک ہوا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسی شہادت موجود ہے کہ اسرائیلی ٹینک نے جان بوجھ کر مسٹر شانا پر فائرنگ کی ہے۔ |
اسی بارے میں حماس سے حملے بند کرنے کی اپیل18 April, 2008 | آس پاس جمی کارٹر خالد مشعل سے ملیں گے18 April, 2008 | آس پاس ’1.27 بلین ڈالر کا حماس ہٹاؤ منصوبہ‘05 March, 2008 | آس پاس حماس اور فتح بات چیت پر راضی24 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||