BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 April, 2008, 23:47 GMT 04:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس سے حملے بند کرنے کی اپیل
جمی کارٹر اور بشر الاسد
جمی کارٹر نے شام کے صدر بشرالاسد سے بھی ملاقات کی
سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے امریکی اور اسرائیلی مخالفت کے باوجود شام کے دارالحکومت دمشق میں حماس کے جلاوطن سیاسی رہنما خالد مشعل سے ملاقات کی ہے۔

حماس کے ترجمان نے بتایا کہ جمی کارٹر نے انہیں راکٹوں کے حملے بند کرنے اور اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے مذاکرات شروع کرنے کے لیے کہا ہے۔ سابق امریکی صدر کارٹر نے ملاقات کے بعد کوئی بیان نہیں دیا۔ جمی کارٹر نے شامی صدر بشر الاسد سے بھی ملاقات کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا مؤقف
 اگر مسٹر کارٹر پہلے مجھ سے ملتے اور پھر دو روز بعد خالد مشعل سے ملاقات کرتے تو ایسا تاثر پیدا ہوتا کہ ہم حماس سے بات چیت کر رہے ہیں
اسرائیلی وزیر اعظم
سابق صدر کارٹر کی حماس کے رہنما سے ملاقات چار گھنٹے جاری رہی۔ انہیں اس ملاقات پر امریکہ میں بُش انتظامیہ کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جمی کارٹر کا موقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ جمی کارٹر اس دورے کو اپنا ذاتی امن مِشن قرار دیتے ہیں۔

ملاقات کے بعد حماس کے سیاسی شعبے کے رہنما محمد نزال نے کہا کہ جمی کارٹر نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی اور حماس سے اسرائیل کے خلاف راکٹ حملے بند کرنے کو کہا ہے۔ بقول محمد نزال، ان کی تنظیم جنگ بندی کی حامی ہے لیکن اسرائیل کو بھی ایسی کسی بھی جنگ بندی کو تسلیم کرنا ہوگا۔

حماس کے رہنما محمد نزال
جمی کارٹر کو سن دو ہزار دو میں نوبل امن انعام بھی مل چکا ہے۔ انہوں سن انیس سو اناسی میں اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معادہ کروایا تھا جو اسرائیل اور کسی بھی عرب ریاست کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ تھا۔

مسٹر کارٹر مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے مصر میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ ساتھ ہی وہ اسرئیلی صدر شمعون پیریز سے بھی بات چیت کر چکے ہیں۔

لیکن ہمارے نامہ نگار کے مطابق خالد مشعل سے ملاقات کی خبروں کے پیش نظر اسرائیل کے دیگر سینئیر رہنماؤں نے مسٹر کارٹر سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔

فلسطینی عسکریت پسندوں نے دو سال قبل اسرائیلی علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کرکے ایک اسرائیلی فوجی کو اغوا کر لیا تھا۔ تب سے انکی رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ایک اخبار کو بتایا کہ اگر وہ مسٹر کارٹر سے ملاقات کرتے تو یہ تاثر جاتا کہ وہ حماس سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

خالد مشعل قیام امن کے لیے عرب ممالک کے فارمولے کی حمایت کرتے ہیں
’اگر مسٹر کارٹر پہلے مجھ سے ملتے اور پھر دو روز بعد خالد مشعل سے ملاقات کرتے تو ایسا تاثر پیدا ہوتا کہ ہم حماس سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘

خالد مشعل مارچ دو ہزار چار سے حماس کے سربراہ ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے عرب ممالک کی اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کریں گے اور بدلے میں اسرائیل انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں پر واپس چلا جائے گا، مقبوضہ علاقوں پر تعمیر شدہ یہدی آْبادیاں ختم ہوں گیں، اور ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگی۔

لیکن امریکہ حماس کو الگ تھلگ کرنے میں جٹا ہوا ہے اور اس نے کہا ہے کہ مسٹر کارٹر کے دورے سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ امریکہ کے مطابق مسٹر کارٹر ایک نجی دورے پر ہیں جس سے قیام امن کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔

مسٹر کارٹر کہہ چکے ہیں کہ وہ ثالثی کی کوشش نہیں کر رہے ہیں لیکن ان کے خیال میں مشرق وسطی میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک بات چیت میں حماس اور شام کو شامل نہیں کیا جاتا۔

 اسمٰعیل ہانیہاسمٰعیل ہانیہ پر دباؤ
اسرائیلی فوجی کا اغوا، فلسطین میں بحران
مشرق وسطیٰ بحران
لبنان اور اسرائیل تنازعے کا انجام کیا ہو گا
نیا مشرق وسطیٰ؟لبنان جنگ کے بعد
مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نیا کھیل
فائلامیدیں اور اندیشے
کمیپ ڈیوڈ مشرق وسطی امن کانفرنس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد