جمی کارٹر خالد مشعل سے ملیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی صدر جمی کارٹر شام کے دارالحکومت دمشق میں ہیں جہاں وہ حماس کے جلاوطن سیاسی رہنما خالد مشعل سے ملاقات کریں گے۔ مسٹر کارٹر مشرق وسطی کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے مصر میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ ساتھ ہی وہ اسرئیلی صدر شمعون پیریز سے بھی بات چیت کر چکے ہیں۔ لیکن ہمارے نامہ نگار کے مطابق خالد مشعل سے ملاقات کی خبروں کے پیش نظر اسرائیل کے دیگر سینئیر رہنماؤں نے مسٹر کارٹر سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن اسرائیل کے وزیر صنعت ایلی یشائی نے مسٹر کارٹر کو بتایا ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں سے ملنے کو تیار ہیں تاکہ حماس نے جن اسرائیلیوں کو پکڑ رکھا ہے انہیں چھڑوانے کے لیے بات چیت کی جاسکے۔ ان کے ترجمان نے کہا کہ مسٹر یشائی نے مسٹر کارٹر کو یہ پیش کش ان کی شام آمد سے قبل کی تھی۔ فلسطینی عسکریت پسندوں نے دو سال قبل اسرائیلی علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کرکے ایک اسرائیلی فوجی کو اغوا کر لیا تھا۔ تب سے انکی رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔ اگر اسرائیلی وزیر کی حماس کی قیادست سے ملاقات ہوتی ہے تو یہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہوگی۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ایک اخبار کو بتایا کہ اگر وہ مسٹر کارٹر سے ملاقات کرتے تو یہ تاثر جاتا کہ وہ حماس سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
’اگر مسٹر کارٹر پہلے مجھ سے ملتے اور پھر دو روز بعد خالد مشعل سے ملاقات کرتے تو ایسا تاثر پیدا ہوتا کہ ہم حماس سے بات چیت کر رہے ہیں۔‘ لیکن ایک دیگر اسرائیلی وزیر رفیع ایتان نے کہا کہ انہیں اس بارے میں شبہہ ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے لیے مسٹر یشائی کو اکیلے بات چیت کرنے دی جائے گی۔ انہوں نے اسرائیلی ریڈیو کو بتایا کہ کابینہ کے ہر وزیر کو حکومت کی پالیسیوں کی پاسداری کرنا ہوتی ہے۔ خالد مشعل مارچ دو ہزار چار سے حماس کے سربراہ ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے عرب ممالک کی اس تجویزکی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کریں گے اور بدلے میں اسرائیل انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں پر واپس چلا جائے گا، مقبوضہ علاقوں پر تعمیر یہدی آْبادیاں ختم ہوں گی، اور ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگی۔ لیکن امریکہ حماس کو الگ تھلگ کرنے میں جٹا ہوا ہے اور اس نے کہا ہے کہ مسٹر کارٹر کے دورے سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ امریکہ کے مطابق مسٹر کارٹر ایک نجی دورے پر ہیں جس سے قیام امن کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔ مسٹر کارٹر شام کے صدر بشر الاسد سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔ بعد میں وہ اردن اور سعودی عرب جائیں گے۔ مسٹر کارٹر کہہ چکےہیں کہ وہ ثالثی کی کوشش نہیں کر رہے ہیں لیکن ان کے خیال میں مشرق وسطی میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک بات چیت میں حماس اور شام کو شامل نہیں کیا جاتا۔ مسٹر کارٹر نے ہی انیس سو اناسی میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کرایا تھا۔ |
اسی بارے میں روس کا حماس کی قیادت سے وعدہ28 February, 2007 | آس پاس لبنان میں سیاسی بحران جاری24 November, 2007 | آس پاس حماس کی بیسویں سالگرہ پر ریلی15 December, 2007 | آس پاس ’فلسطین: مذاکرات میں پیش رفت‘04 February, 2007 | آس پاس اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل 28 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||