BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’1.27 بلین ڈالر کا حماس ہٹاؤ منصوبہ‘
کونڈولیزا رائس
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزارائس ان دنوں مشرق وسطی کے دورے پر ہیں ۔
امریکی ماہنامے وینیٹی فئیر میں چھپنے والے ایک مضمون میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ بش انتظامیہ نے سن دو ہزار چھ کے انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی فلسطینی جماعت حماس کی حکومت ہٹانے کی کوشش کی تھی۔

میگزین نے الزام لگایا ہے کہ اسی وجہ سے حماس تنظیم، فتح اور فلسطینی صدر محمود عباس کے خلاف ہو گئے تھے۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس مضمون کوغلط قرار دیتے ہوئے کو مسترد کر ریا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزارائس ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور کوشش کر رہی ہیں کہ فلسطینی صدر اور اسرائیلیوں کو بات چیت کے لیے آمادہ کرسکیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے چند روز پہلے یہ بات چیت غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے بعد احتجاج کے طور پر ختم کر دی تھی۔

میگزین کا دعویٰ ہے کہ تقریبًا ایک اعشاریہ دو سات بلین ڈالر بجٹ کے پانچ سالہ منصوبے کو بروئے کار لایا گیا تاکہ سن دو ہزار چھ میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے کو بدلہ جا سکے جس کے نتیجے میں انتہا پسند تنظیم حماس کو برسر اقتدار آنا تھا۔

اس منصوبے کا مقصد بظاہر نسبتًا معتدل تنظیم فتح کو اسلحے اورپیسوں کے لحاظ سے تقویت دینا تھا۔کیونکہ امریکی کانگریس نے فتح کو کو تقویت دینے کے لیے ایک بڑے فنڈ کی فراہمی سے انکار کر دیا تھا۔ میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ بش انتظامیہ نے اپنے حمایتی عرب ممالک کو فلسطینی تنظیم فتح کی امداد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

غزا میں فلسطینی حکام تک ہتھیار پہنچانے کے لیے مصر کی سرزمین کو بھی استعمال کیا گیا۔

مضمون میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ غزہ میں حماس نے فتح کی طرف سے ممکنہ ایکشن کو روکنے کے لیے کارروائی کی تھی۔ لیکن امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا کوئی خفیہ منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا۔اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکی حکومت نے فلسطینی حکومت کی سکیورٹی سروسز میں اصلاحات کے لیے مدد فراہم کی تھی۔

مضمون میں یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ زیادہ تر لوگ اس بات سے متفق ہوں گے کہ بش انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے مذاکرات کرنےاور حماس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھنے کی حکمت عملی اب تک ناکام رہی ہے۔

غزہاجتماع پر پابندی
غزہ میں کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی
غزہ کی پٹیغزہ کی پٹی
مصرنےتین ہزار فوجی غزہ سرحد پرتعینات کر دیے
فلسطینی بچیغزہ پر یواین رپورٹ
’اسرائیلی کارروائیاں نسل پرستی جیسی ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد