حماس کا وفد قاہرہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند گروپ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری کوششوں کے تناظر میں حماس کا ایک وفد مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔ غزہ شہر حماس کے کنٹرول میں ہے جس کے سینیئر اہلکاروں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ جنگ بندی کی مختلف تجاویز پر مصر کے اہلکاروں کو جوابات دیں گے۔ مصر ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ مصر کے وزیرِ خارجہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حماس کے شدت پسند اسرائیلی علاقوں پر راکٹ داغنے روک دیں گے۔ اس کے بدلے میں اسرائیل غزہ پر حملے بند کر دے گا۔ مصری وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے مطابق مغوی اسرائیلی فوجی غالد شالیت کے بدلے میں چار سو فلسطینوں کو جیلوں سے رہا کیا گیا ہے۔ کچھ دن قبل حماس کے لیڈر خالد مشعل نے کہا تھا کہ حماس اسرائیلی ریاست کے ساتھ دس سالہ جنگ بندی کے تیار ہے لیکن اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین کے جلا وطن رہنما خالد مشعل کا بیان سابق امریکی صدر جمی کارٹر کےاس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں جمی کارٹر نے کہا تھا کہ حماس اسرائیل کو ہمسایہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ جمی کارٹر نے اسرائیل میں آنےسے پہلے شام میں فلسطینی رہنماء خالد مشعل کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ خالد مشعل نے کہا کہ حماس نے غرب اردن ، غزہ اور یورشلم کے مشرق میں اس خطے پر جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا، فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔ خالد مشعل نے کہا کہ یورشلم ہر صورت میں فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ ہونا چاہیے ۔ خالد مشعل نے پیشکش کی کہ فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کرنے کےمتبادل کے طور پر اسرائیل کے ساتھ دس سال تک جنگ بندی کا معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں بشطریکہ اسرائیل 1967 کی سرحدوں پر واپس چلا جائے۔ |
اسی بارے میں حماس سے حملے بند کرنے کی اپیل18 April, 2008 | آس پاس جمی کارٹر خالد مشعل سے ملیں گے18 April, 2008 | آس پاس ’1.27 بلین ڈالر کا حماس ہٹاؤ منصوبہ‘05 March, 2008 | آس پاس حماس اور فتح بات چیت پر راضی24 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||