BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان: میشال سلیمان صدر منتخب
صدر میشال سلیمان کو غیر جانبدار تصور کیا جاتا ہے
لبنان کی پارلیمنٹ نے صدر کے عہدے پر جو کہ ملک میں کئی ماہ سے جاری سیاسی تعطل کی وجہ سے خالی تھا فوج کے سربراہ جنرل ميشال سليمان کو منتخب کر لیا ہے۔

مغربی ممالک کی حمایت یافتہ حکومت اور حزب اللہ کی قیادت میں قائم حزب اختلاف نے میشال سلیمان کو ایک متفقہ صدر کے طور پر قبول کر لیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر سلیمان کو حزب اللہ کی حالیہ سیاسی کامیابیوں کی وجہ سے محدود اختیارات ہی حاصل ہوں گے۔

اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد صدر میشال نے ایک نئے دور کے آغاز پر زور دیا اور ملک کو درپیش پپچیدہ ترین مسائل جن میں حزب اللہ کا عسکری کردار بھی شامل ہے ’خاموش مذاکرات‘ شروع کرنے کی بات کی۔

صدر مشیال کا انتخاب گزشتہ ہفتے دوحا میں ہونے والی کانفرنس کے نتیجے میں ممکن ہو سکا۔

گزشتہ اٹھارہ ماہ سے عیسائیوں، سنی مسلمانوں اور دروز ملیشیاء پر مشتمل مخلوط حکومت اور شام کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی قیادت میں قائم حزب اختلاف کے درمیان سیاسی تعطل نے ملک کو شدید بحران کا شکار کر دیا تھا۔

فوج کے سربراہ جن کے مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا ایک معتدل اور غیر جاندار شخصیت تصور کیئے جاتے ہیں جنہوں نے اس بحران میں بھی فوج کے غیر جانبدار کردار کو قائم رکھا۔

لبنان کی پارلیمان میں جب سپیکر نبی بیری نے میشال سلیمان کی کل ایک سو ستائیس میں سے ایک سو اٹھارہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنے کا اعلان کیا تو ایوان میں زبردستی تالیاں بجائی گئیں۔

بیروت میں کئی جگہوں پر خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی گئی

جنرل میشال سلیمان کے حامیوں نے بیروت کی سڑکوں پر بگل بجا کر اور جھنڈے لہرا کر خوشی کا اظہار کیا جبکہ دارالحکومت میں کئی جگہوں پر لوگ نے خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی۔

جنرل سلیمان نے لوگوں سے اپیل کئی کے متحدہ ہو کر حقیقی مفاہمت کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے قوم کے اتحاد کے لیے بھاری قییمت ادا کی ہے اب اس کو مستحکم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘

اس تقریر میں صدر میشال سلیمان نے کہا کہ وہ لبنان کے صدر رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات میں اقوام متحدہ سے پوری طور پر تعاون کرنے پر تیار ہیں۔

تاہم انہوں نے شام کے ساتھ بھی قریبی برداران تعلقات قائم رکھنے پر زور دیا۔

مغرب کی حمایت یافتہ سابق مخلوط حکومت نے رفیق حریری کے قتل کا الزام شام پر لگایا تھا اور اس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے پر زور دیا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر میشال کے لیے سب سے زیادہ حساس مسئلہ حزب اللہ کا عسکری کردار ہے۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگارر جم میور کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی روکاٹ جو میشال سلیمان کو درپیش ہے وہ قومی وحدت کی حکومت تشکیل دینا ہے جیسا کہ گزشتہ ہفتے قطر میں ہونے والے معاہدے میں طے پایا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد