BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 May, 2008, 00:08 GMT 05:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیروت جھڑپوں میں سات ہلاک
’ٹیلی مواصلات کا نظام بند کرنے والے ہاتھ توڑ دیئے جائیں گے: حسن نصراللہ
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی جاری رہیں جن میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے حکومت کے حالیہ اقدامات کو یہ کہتے ہوئے اعلانِ جنگ قرار دیا کہ وہ حزب اللہ کے اثر رسوخ کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔

ٹیلی وژن پر دکھایا گیا کہ شہر کے مرکزی اور جنوبی حصوں پر مسلح افراد رائفل اور راکٹ سے چلنے والے بم داغ رہے ہیں۔

کچھ روز پہلے لبنان کی کابینہ نے ایک طویل ترین اجلاس کے بعد حزب اللہ کے نجی ٹیلی مواصلات کے مربوط نظام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بند کر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے اس فیصلے کو حکومت کی طرف سے اعلانِ جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس نظام کو روکنے کی کوشش کرنے والے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے۔‘

اس سے قبل لبنان کی فوجی کمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر بیروت شہر میں بے چینی اور لبنان میں طویل عرصے پر محیط سیاسی بحران جاری رہا تو اس کا اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں فوج لبنان کا سب سے غیر جانب دار ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے مگر نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ متحارب گروہوں کے درمیان جھڑپیں فوج کو معاملے میں دھکیل سکتی ہیں۔

جمعرات کو سارا دن ہی ان حساس مقامات پر عجیب سے کشیدگی رہی جہاں سنی اور شیعہ رہتے ہیں اور جہاں ایک روز پہلے مسلح لڑائیاں شروع ہو گئی تھیں۔

تاہم حسن نصراللہ کی تقریر ختم ہونے کے فوراً بعد فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے شہر کا مرکز لرز اٹھا۔

اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کے جنگجو اور ان کے حلیف ان عمارتوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جہاں مغرب نواز پارلیمانی اکثریت رکھنے والے رہنما سعد حریری کی سنی تحریک کے دفاتر ہیں۔

سعد حریری کا مطالبہ تھا کہ لڑائی فوری طور پر بند ہونی چاہیے اور دونوں اطرف سے مسلح افراد لبنان کو جہنم بنانے سے بچانے کے لیے سڑکوں سے چلے جائیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ بیروت کا ’محاصرہ‘ ختم کر دے اور یہ کہ وہ جلد از جلد حسن نصراللہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔

سعد حریری نے حکومت کے حزب اللہ کے ٹیلی مواصلات کے نظام کو بند کرنے کے فیصلے کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس معاملے میں فوج جو فیصلہ کرے اسے سب قبول کریں۔

لبنانجھڑپیں اور انخلاء
نہرالبارد کے پناہ گزین مشکلات کا شکار
 اکیاسی سالہ اہلیہ بٹینالُوٹن سے لبنان تک
’لبنان میں اپنے پہلے کرسمس کی منتظر ہوں‘
حیفہ وہبی حشر ساماں حیفہ
منچلی لبنانی گلوکارہ پر پابندی کا مطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد