بیروت، بہتر اجرت کے لیے مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں مظاہرین کم سے کم اجرت کی شرح میں اضافے کے لیے ہڑتال کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندی کی ہے اور سڑکوں پر ٹائر جلائے ہیں۔ شہر میں عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ ائیرپورٹ اور شہر کے کاروباری مرکز کو جانے والی سڑکیں بند ہیں۔ مظاہروں میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ ہڑتال کی اپیل لبنان میں مزدوروں کی بڑی یونینوں کی جانب سے کی گئی ہے اور اسے حزب اللہ کی قیادت والی اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے۔ مبصرین کے مطابق لبنان کو خانہ جنگی کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ لبنان میں پانچ مہینے سے سربراہ مملکت کا عہدہ خالی پڑا ہے کیونکہ مغربی ممالک اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت اور شام اور ایران کی حمایت یافتہ اپوزیشن کے درمیان رسہ کشی چل رہی ہے۔ حزب اللہ نے نومبر دو ہزار چھ سے وزیر اعظم فواد سنیورا کو ہٹوانے کے لیے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ نامہ نگاروں کا خیال ہےکہ بدھ کا مظاہرہ سیاسی مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مزدوروں کی یونینوں نے بیروت میں ایک بڑا جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا جسے چند گھنٹے پہلے ہی سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر منسوخ کر دیا گیا۔ ملک میں منگل کو اس وقت کشیدگی بڑھ گئی تھی جب حکومت نے اعلان کیا کہ حزب اللہ کے نجی مواصلاتی نظام کو بند کر دیا جائے گا۔ ایرپورٹ کی سکیورٹی کے سربراہ کو بھی برطرف کر دیا گیا کیونکہ حکومت کے خیال میں انہوں نے حزب اللہ کو ہوائی اڈے پر کیمرے نصب کرنے کی اجازت دی تھی۔ حزب اللہ اس الزام سے انکار کرتی ہے۔ مزدور یونینیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ حکومت کم سے کم ماہانہ اجرت کو تین گنا بڑھا کر چھ سو ڈالر کردے جو فی الحال دو سو ڈالر ہے۔ لبنان میں کھانے پینے کی چیزوں اور ایندھن میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں زیادہ اضافے سے افراط زر میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||