BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 01:11 GMT 06:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لُوٹن کے بنگلے سے لبنان کی پہاڑیوں تک
چوراسی سالہ ایڈورڈ گرفتھ اور ان کی اکیاسی سالہ اہلیہ بٹینا
گرفتھ لبنان میں رہائش رکھنے کے خطرے سے آگاہ ہیں
اسّی برس کی عمر میں انسان عام طور پر کسی پرسکون اور آرام دہ مقام پر دنیا کے مسائل سے دور زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن انگلینڈ کے ایک بزرگ جوڑے نے عمر کے اس حصے میں برطانوی گاؤنٹی بیڈفورڈشائر کے علاقے لوٹن سے ترکِ سکونت کر کے لبنان میں گھر بسانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چوراسی سالہ ایڈورڈ گرفتھ اور ان کی اکیاسی سالہ اہلیہ بٹینا آئندہ ہفتے ایک ایسے ملک منتقل ہو رہے ہیں جو ایک برس قبل ہی جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار رہ چکا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی دفترِ خارجہ کی تازہ ایڈوائس میں برطانوی شہریوں کو اشد ضرورت کے بناء لبنان کا سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

بیڈفورڈشائر میں چالیس برس تک قیام پذیر رہنے کے بعد یہ بزرگ جوڑا بیروت منتقل ہو رہا ہے۔ بیروت میں ان کا قیام ان کی پوتی نومی اور اس کے لبنانی خاوند کے گھر میں ہوگا۔

اکیاسی سالہ بیٹینا کا کہنا ہے کہ’ مجھے یقین ہے کہ ہماری عمر میں کبھی نہ کبھی آپ کو مدد کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے اور نومی کے خاوند کے خاندان کے لوگ ان مہربان ترین افراد میں سے کچھ ہیں جن سے میں اپنی زندگی میں ملی ہوں‘۔

ایڈورڈ گرفتھ کے دیگر رشتہ داروں میں سے بھی کوئی برطانیہ میں رہائش پذیر نہیں اور ان کی بیٹی آسٹریلیا اور ایک اور پوتی امریکہ میں رہتی ہے۔

اگر میں وہاں کچھ نہ کر سکی تو میں اپنی پوتی کے نومبر میں متوقع بچے کو پالوں گی۔ میں لبنان میں اپنے پہلے کرسمس کی بےچینی سے منتظر ہوں
بیٹینا

گرفتھ لبنان میں رہائش رکھنے کے خطرے سے آگاہ ہیں۔ جب گزشتہ برس لبنان میں لڑائی چھڑی تو وہ بیروت میں ہی تھے اور اپنی شادی کی ساٹھویں سالگرہ منا رہے تھے۔

گرفتھ کی پوتی اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ’ اپنی عمر کی وجہ سے یہ دونوں علاقے سے باہر لے جائے جانے والے اولین افراد میں سے تھے اور انہیں ایک شنوک ہیلی کاپٹر میں لے جایا گیا تھا‘۔

تاہم نومی کے مطابق ان کی دادی اس انخلاء سے زیادہ اس وقت پریشان اور خوفزدہ ہوئیں جب اگلے ہفتے لوٹن میں شاپنگ کے دوران ان کا بیگ چوری کر لیا گیا۔’ وہ سمجھتی ہیں کہ برطانیہ میں حفاظت اب ایک اہم مسئلہ ہے‘۔

ایڈورڈ گرفتھ اور ان کی اہلیہ بیروت منتقل ہونے کے بعد عربی زبان سیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنی پوتی کے تمام سسرال والوں سے بات چیت کر سکیں جبکہ بیٹینا کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ اگر میں وہاں کچھ نہ کر سکی تو میں اپنی پوتی کے نومبر میں متوقع بچے کو پالوں گی۔ میں لبنان میں اپنے پہلے کرسمس کی بےچینی سے منتظر ہوں‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد