مواصلاتی نظام بند کرنے کا فیصلہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کی حکومت نے شیعہ اپوزیشن تنظیم حزب اللہ کی طرف سے چلائے جانے والے ٹیلی مواصلات کے ایک مربوط نظام کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ لبانی حکومت جسے مغرب کی حمایت حاصل ہے کہتی ہےکہ چونکہ حزب اللہ کا ٹیلی مواصلات کا نظام ملکی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے لہذا اسے بند کر دیا جائے گا۔ ملک میں کشیدگی میں اس وقت سے اضافہ ہوا ہے جب سے بیروت کے ہوائی اڈے پر تعینات سیکورٹی چیف کو حزب اللہ سے مبینہ ہمدردی کے شبہے میں ہٹا دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے حکام نے حزب اللہ ہر یہ الزام لگایا تھا کہ اس نے ہوائی اڈے پر جاسوسی کے کیمرے نصب کر دیئے ہیں۔ تاہم حزب اللہ نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ لبانی حکومت نے منگل کو کابینہ کے ایک طویل اجلاس کے بعد سلامتی سے متعلق کئی فیصلے کیے جن کا رات دیر گئے اعلان کیا گیا۔ بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اور دشنام طرازی پہلے ہی ہو رہی ہے اور اپوزیشن حکومت کے تازہ فیصلوں کو متنازع قرار دے گی۔ اس بحران کے باعث گزشتہ ماہ نومبر سے لبنان میں عہدۂ صدارت خالی ہے کیونکہ پارلیمان نے سربراہِ مملکت کے انتخاب کی کوششوں کو اٹھارہ بار ناکام بنایا ہے۔ حزب نے جسے شام اور ایران کی حمایت حاصل ہے واضح کر دیا ہے کہ وہ نجی اپنے ٹیلی مواصلاتی نظام کو اسرائیل کے خلاف اپنے دفاعی اقدامات کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسی مواصلاتی نظام نے اسرائیل کے خلاف دو ہزار چھ میں لڑی جانے والی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ادھر اپوزیشن بدھ کو اس ہڑتال کی حمایت کر رہی ہے جس کو بلانے والے ورکرز تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بیروت دھماکہ، ایم پی ہلاک19 September, 2007 | آس پاس لبنان: ہزاروں کی نقل مکانی23 May, 2007 | آس پاس عرب لیگ نے’لبنان منصوبہ‘ طے کرلیا06 January, 2008 | آس پاس امریکی بیڑا ایک خطرہ ہے: حزب اللہ01 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||