BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 January, 2008, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرب لیگ نے’لبنان منصوبہ‘ طے کرلیا
جنرل مائیکل سلیمان
جنرل مائیکل سلیمان کو صدر بنانے پر حکومت اور حزب مخالف میں کوئی اختلاف نہیں
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے قاہرہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں لبنانی فوج کے سربراہ جنرل مائیکل سلیمان کو ملک کا نیا صدر مقرر کرنے کی حمایت کی کی گئی ہے۔

جنرل سلیمان کی حمایت کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب بائیس عرب ممالک پر مشتمل تنظیم عرب لیگ لبنان کے سیاسی بحران پر غور کرنے والی ہے۔

لبنان کی مغرب نواز حکومت اور مقابلے میں ہمسایہ ممالک شام اور ایران کی حمایت رکھنے والی حزب مخالف کے درمیان موجود اختلافات کے باعث لبنان میں تئیس نومبر سے صدر کا عہدہ خالی پڑا ہوا ہے۔

اٹھائیس دسمبر کو صدر کے انتخاب کے لیے ہونے والا لبنانی پارلیمان کا گیارہواں اجلاس گیارہ جنوی تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسیٰ نے قاہرہ میں ہونے والے مشاورتی اجلاس کے بعد اخبار نویسوں کو بتایا کہ عرب لیگ وزرائے خارجہ جنرل سلیمان پر صدارتی امیدوار کے لیے پائے جانے والے اتفاقِ رائے کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے فوری انتخاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔

امر موسیٰ کے مطابق لبنانی حزب مخالف تنظیم حزب اللہ کی حمایت کرنے والے ملک ایران نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ امر موسیٰ کا کہنا ہے کہ وزراء نے تین مراحل پر مشتمل ایک منصوبے پر اتفاق کیا ہے جو اتوار کو منظور کیا جائے گا۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسے کابینہ میں ایک تہائی وزارتیں دی جائیں

اس منصوبے کے تحت پہلے صدر کا انتخاب عمل میں آئے گا اور بعد میں قومی اتفاقِ رائے کی حکومت بنے گی اور نئے انتخابی قوانین کو منظور کیا جائے گا۔ منصوبے کی رو سے صدر کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ حکومتی فیصلوں کو منظور کریں یا مسترد کر دیں۔

لبنان میں حکومت اور حزب مخالف کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ ملک کا اگلا صدر جنرل سلیمان کو بنایا جائے لیکن مستقبل کی حکومت کے خدوخال پر فریقین کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

جمعہ کے روز حزب اللہ نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک صدر کا انتخاب نہیں ہونے دے گی جب تک اسے کابینہ میں ایک تہائی وزارتوں کی یقین دہانی نہیں کرا دی جاتی۔

اگر حزب اللہ کو ایک تہائی وزارتیں مل جاتی ہیں تو اسے اہم فیصلوں پر ویٹو کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ دوسری طرف حکومت کا ارادہ ہے کہ کابینہ کے اختیارات میں ترمیم کر کے فیصلہ کن کردار نئے صدر کو دے دیا جائے۔

اسی بارے میں
بیروت دھماکہ، ایم پی ہلاک
19 September, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد