حکومت اور حزب اللہ میں معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں متحارب رہنما ملک میں کئی ماہ سے جاری سیاسی تعلطل کو ختم کرنے کے لیے مجوزہ اقدامات پر متفق ہو گئے ہیں۔ لبنان میں سنہ انیس سو پچہتر سے سنہ انیس سو نوے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد گزشتہ کئی ماہ سے ایک بار پھر تشدد کی لہر جاری ہے۔ لبنان میں مغرب کی حمایت یافتہ حکومت اور شام کی حمایت والی اپوزیشن کے رہنما قطر میں کئی روز سے جاری مذاکرات کے بعد معاہدے تک پہنچے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت حزب اللہ کے سیاسی اور فوجی گروپ کی قیادت میں اپوزیشن کو قومی وحدت کی حکومت کی نئی کابینہ میں ویٹو کا اختیار حاصل ہوگا۔
معاہدے کے تحت پارلیمان کے نئے صدر کے انتخاب کا راستہ بھی ہموار ہو جائے گا۔ یہ عہدہ گزشتہ برس نومبر سے خالی پڑا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے یہ معاہدہ حزب اللہ کے لیے ایک بڑی فتح ہے جس کے اہم مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جہاں معاہدہ طے ہوا ہے، ایک تقریب میں تقریر کے دوران وزیرِ اعظم فواد سینیورا کا کہنا تھا کہ ’غیر معمولی حالات میں یہ ایک غیر معمولی معاہدہ ہے۔‘ ٹیلی مواصلات کے وزیر مروان حامدے نے کہا کہ اس معاہدے میں کسی کی ہار نہیں ہوئی۔ معاہدے کے تحت مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کو کابنیہ میں سولہ وزارتیں ملیں گی اور وزیرِ اعظم چننے کا اختیار ہوگا جبکہ حزب اللہ کو کابینہ میں گیارہ وزارتیں اور کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کی اختیار مل جائے۔ کابینہ کی تین نشستوں پر صدر کی طرف سے نامزدگی ہوگی۔ اندرونی لڑائی میں ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہوگی، وسطی بیروت میں اپوزیشن کے کیمپ ہٹا دیئے جائیں گے اور نئے قانون کے تحت ملک میں چھوٹے انتخابی اضلاع بنائے جائیں گے۔ عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ نے جنہوں نے یہ معاہدہ کروایا ہے، کہا کہ اس سے لبنان آزاد ہو گیا ہے۔ پارلیمان میں اکثریتی رہنما سعد حریری کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے لبنان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اس معاہدے میں حزب اللہ کے اسلحے کے ذخیرے پر بھی بات چیت ہوئی ہے جس کا تھوڑا سے استعمال مغربی بیروت میں جھڑپوں کے دوران ہوا تھا۔ حزب اللہ اس دلیل پر اپنی فوجی صلاحیت ترک کرنے سے انکار کرتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف جد و جہد میں یہ از حد ضروری ہے۔
اس معاہدے سے پارلیمان کے لیے فوج کے سربراہ جنرل مائیکل سلیمان کو صدر بنانے کا راستہ بھی کھل گیا ہے اور حکام کہتے ہیں کہ یہ انتخاب اتوار کو ہوگا۔ کئی ماہ سے جنرل سلیمان کے انتخاب کے لیے ووٹ نہیں ہو سکا حالانکہ لبنان میں سب جماعتیں ان کی تقرری کے حق میں ہیں۔ بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جوناتھن مارکس کہتے ہیں کہ اس معاہدے سے ایک آفت ٹل گئی ہے کیونکہ حزب اللہ کا ایک بڑا سیاسی کردار تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغرب میں کچھ لوگ اس معاہدے کو ایک منفی پیش رفت قرار دیں گے۔ |
اسی بارے میں مواصلاتی نظام بند کرنے کا فیصلہ‘07 May, 2008 | آس پاس بیروت، بہتر اجرت کے لیے مظاہرے07 May, 2008 | آس پاس حزب اللہ پر جاسوسی کا الزام04 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||