BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تریپولی میں لڑائی پھر چھڑ گئی
لبنان میں حالیہ لڑائی کی وجہ کابینہ کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت حزب اللہ کے نجی ٹیلی مواصلات کے چینل کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا
لبنان کے شمالی شہر تریپولی میں حکومتی اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان پھر لڑائی چھڑ گئی ہے۔

گزشتہ رات حزب اللہ کی طرف سے حکومت کے حامی رہنما ولید جمبلاٹ کی فوج پر حملے کے نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بیروت میں گزشتہ رات کے زبردست مسلح تصادم کے بعد اب لبنانی فوج نے شہر کے جنوب مشرق میں پہاڑیوں پر مورچے بنالیے ہیں۔

شوے فات نامی قصبے سے کئی افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ اس کےعلاوہ لبنان کےشمالی شہر تریپولی سے بھی لڑائی کی خبریں مل رہی ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ گزشتہ ہفتے بیروت میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات انیس سو نوے میں ختم ہونے والی پندرہ سالہ خانہ جنگی کے بعد بدترین فسادات ہیں۔

لبنان کے کشیدہ حالات پر بین الاقوامی ردعمل بھی بظاہر سرد نظر آتا ہے جبکہ مغربی بیروت کے سنی اکثریت والے علاقے پر حزب اللہ ملیشیا کے قبضے پر امریکی ردعمل بھی خلاف توقع نہ رہا۔

واشنگٹن نے اِس قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے شام اور ایران کی مدد سے لبنان کی خودمختاری اور جمہوری اداروں کی تذلیل کی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے بھی ایسے ہی الفاظ کی بازگشت سننے میں آئی جس میں اُس نے حزب اللہ کو شام اور خاص طور پر ایران کا بغل بچہ قرار دیا ہے۔

حزب اللہ کا اس طرح آنکھیں دکھانا واشنگٹن کے لیے باعث ندامت ہے کیونکہ امریکہ لبنان کی اپنی سکیورٹی فورس بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اگر اس فورس کی ضرورت پڑی تو یہ شاید زیادہ کارآمد نہ ہوسکے کیونکہ یہ فرقے کی بنیادپر باآسانی تقسیم ہوسکتی ہے۔

ادھر عرب دنیا میں لبنانی حکومت کے حامی، خاص طور پر مصر اور سعودی عرب بھی لبنان کی صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں جو بظاہر ایک اور خانہ جنگی کی جانب جاتا نظر آرہا ہے لیکن اس صورتحال کی روک تھام کے لیے وہ کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

کچھ مبصروں کا خیال ہے کہ اس مرتبہ حزب اللہ نے شاید اپنی بساط سے بڑھ کر چال چل دی ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو لیکن یہ واضح ہے کہ اِس وقت لبنان میں کسی بھی سیاسی مفاہمت کا امکان نہ ہونے کے برابر نظر آرہا ہے۔

لبنان پر امریکی تجزیے پر بھی اب نئے سرے سے تنقید شروع ہوگی۔ لبنان میں بیرونی طاقتیں سرگرم عمل ہوسکتی ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ حزب اللہ ایک ایسی طاقت ور اور متحرک لبنانی تحریک ہے جس کو مقامی طور پر مضبوط حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد