BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 May, 2008, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ لبنانی فوج کی مدد کرسکتا ہے
لبنانی فوج
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ حزب اللہ کو شکست دین کے لیے لبنانی فوج کی مدد دینے کے لیے تیار ہیں
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ حزب اللہ کو شکست دینے کے لیے لبنانی فوج کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی صدر نے یہ بات بی بی سی کے عربی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مدد کے عملی پہلو کیا ہونگے۔

صدر بش اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کرینگے اور ان کا یہ بیان اس دورے سے عین پہلے آیا ہے۔

پچھلے دنوں بیروت سمیت لبنان کے دیگر شہروں میں فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم ساٹھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ یہ انیس سو نوے میں ملک میں پندرہ سالہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے فرقہ وارانہ تشدد کا سنگین ترین واقعہ ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کسی غیر ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور لبنان کو ایک ایسی فوج کی ضرورت ہے جو حزب اللہ سے ملک کا کنٹرول واپس لے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ لبنانی فوج کے پاس حزب اللہ کا جواب دینے کے لیے صلاحیت ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مسئلہ ایران ہے جو کہ حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور شام کی مدد کے بغیر حزب اللہ موثر ہی نہ ہوتی۔

پچھلے ہفتے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ایک روز پہلے ترپولی میں بھی جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

تشدد کی یہ نئی لہر اس وقت شروع ہوئی جب لبنان کی حکومت نے حزب اللہ کے ٹیلے کام نیٹ ورک کو بند کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ بیروت ہوائی اڈے پر سکیورٹی کے چیف کو اس بنیاد پر ہٹایا گیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر حزب اللہ کے حامی تھے۔

پچھلے سولہ ماہ سے لبنان میں حکومت کی تشکیل کے مسئلے پر ڈیڈلاک ہے۔ اس دوران حزب اللہ اور مخلوط حکمراں اتحاد میں حکومت کی تشکیل پر اتفاق نہیں ہو پایا اور ملک میں سیاسی بحران جاری ہے۔

نومبر سے ملک میں صدر کے عہدے پر کوئی تعینات نہیں ہے۔ سابق صدر ایمیل لاہود نومبر میں صدارت سے دستبردار ہوگئے تھے حالانکہ پارلیمان ان کی جگہ کسی اور کے نام پر اتفاق نہیں کر سکی تھی۔ اب خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل مشیل سلیمان صداتر کے لیے سب سے مناسب شخص ہیں۔

لبنانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ امن و امان کو بحال کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرے گی اور وہ یہ کارروائی منگل کی صبح شروع کردےگی۔

عرب لیگ کے ایک وفد کو بدھ کے روز لبنان پہنچنا ہے ۔ وفد کی کوشش ہوگی کہ وہ لڑائی کو ختم کر سکے۔

بدھ کو ہی صدر بش اسرائیل پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اسرائیل کے ساٹھ برس مکمل ہونے پر تقریبات میں شریک ہوں گے۔ اسرائیل کے علاوہ وہ سعودی عرب اور مصر بھی جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد