BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 May, 2008, 07:43 GMT 12:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تریپولی جھڑپوں میں تین ہلاک
مشتعل مظاہرین
تریپولی میں مشتعل مظاہرین نے شام کے صدر بشارالاسد اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کے پوسٹر پھاڑ دیے
لبنان کے شہر تریپولی میں حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان گزشتہ شب جھڑپیں جاری رہیں جس میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں اطراف سے مشین گنز اور گرینیڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے اور لوگ اپنےگھر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں چار دن کےخونی فسادات کے بعد اب خاموشی چھائی ہوئی ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان ان جھڑپوں میں اب تک تیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سنیچر کو فوج کی حکومت کی طرف سےحز ب اللہ کےخلاف کارروائی رکنے کے بعد جماعت نےشہر کے مسلم اکثریت والے مغربی حصے سے اپنے جنگجو واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

خونی فسادات
 لبنان کے دارالخلافہ بیروت میں چار دن کےخونی فسادات کے بعد اب خاموشی چھائی ہوئی ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان ان جھڑپوں میں اب تک تیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی کی شرط پر بتایا کہ لبنان میں مغرب نواز برسر اقتدار حکومت کے سنی حمایتی تریپولی میں حزب اللہ کے کارکنوں سے لڑ رہے ہیں جن کا تعلق علاوی فرقے سے ہے ۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ اب تک لڑائی سے سب سے زیادہ متاثرہ قصبے باب التبنیہ کے تقریباً سات ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اس سے قبل حکومت نواز مظاہرین نے شام کی حمایت یافتہ بعث پارٹی کے دفاتر جلا ئےاور شام کے صدر بشارالاسد اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے پوسٹر پھاڑ دیے تھے۔

تاہم فوج کی مداخلت پر حکومت کی جانب سے دو متنازعہ فیصلے واپس لینے کے بعد بیروت میں جاری تصادم میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔

لبنان میں جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حکومت نےحزب اللہ کے نجی ٹیلی مواصلات کے مربوط نظام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بند کر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے حکومت کے اقدامات کو یہ کہتے ہوئے اعلانِ جنگ قرار دیا کہ وہ حزب اللہ کے اثر رسوخ کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کے مطابق ابتداء میں فوج دونوں اطراف کو ٹالتی رہی۔اور بعد میں اس بحران کو حل کرنے کے لیےاس نےدونوں گروپوں کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے ثالث کا کردار ادا کیا۔

نامہ نگار کے مطابق اگر یہ اقدامات صحیح طور پر چلتے رہے تو شہر میں امن لوٹ آئے گا اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

جم میور کا کہنا ہے لبنان کی تمام سیاسی پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ فوج کے کمانڈر جنرل مائیکل سلیمان لبنان کے اگلے صدر ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد