جنگ بندی کامیاب حکمتِ عملی:ایہود | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائی سے فلسطینیوں کے راکٹ حملے بند نہیں ہوں گے۔ جنگ بندی سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ غزہ پر فوجی حملہ ضروری ہے۔ ایہود باراک نے کہا ہے کہ مصر کی ثالثی سے سات ہفتوں سے جاری جنگ بندی سے کئی برس بعد پہلی بار حملے بند ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تین برس قبل جب اس نے غزہ سے اپنی فوج واپس بلائی تھی تب سے فلسطین کی طرف سے چھ ہزار راکٹ اور مارٹر گولے داغے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر فوج نے غزہ پر حملہ کیا ہوتا اور’حماس کی انتظامیہ کو اس طرح ختم کر دیا جاتا کہ اس کا ایک بھی دفتر اور کارکن نہ بچتا تو یہ غیر لوگوں پر ان کی مرضی کے خلاف قابو پانے کے مترادف ہوتا‘۔ ایہود بارک نے کہا کہ ایسے حالات سے حماس کے لیے فلسطینیوں کی حمایت میں اضافہ ہوتا اور فلسطین کے صدر محمود عباس کی پارٹی الفتح کمزور ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی طرف سے اسرائیل میں داغے جانے والے راکٹ کی تعداد میں کمی آئی ہے اور سینکڑوں کے بجائے اب محض چند رہ گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی سال بھر جاری رہے گی۔
اسرائیل نے دو ہزار سات میں حماس کے کنٹرول کے بعد سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور عام ضروری اشیاء کے علاوہ دوسری چیزوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسرائیل نے سنہ انیس سو سرسٹھ کی جنگ میں مغربی کنارے سمیت عرب ممالک کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ دو ہزار پانچ میں اس نے غزہ میں کئی یہودی بستیوں کو مسمار کر دیا تھا اور فوج واپس بلا لی تھی۔ دو ہزار سات میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات پر نظر ثانی کے بعد سے اسرائیل کے حملوں میں اب تک پانچ سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں جس میں بیشتر فلسطینی شہری ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ: الفتح کے درجنوں حامی گرفتار26 July, 2008 | آس پاس غزہ دھماکہ، بچی سمیت پانچ ہلاک25 July, 2008 | آس پاس ایندھن کی ترسیل پر پابندی ختم06 May, 2008 | آس پاس مشرق وسطی:رائس اہم پیش قدمی کی خواہاں04 May, 2008 | آس پاس ’عرب ملک فلسطین کی مدد کریں‘02 May, 2008 | آس پاس غزہ: ایندھن کی فراہمی کی اجازت23 April, 2008 | آس پاس غزہ: کراسنگ پوائنٹ پر جھڑپیں19 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||