غزہ: ایندھن کی فراہمی کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے غزہ کے پاور پلانٹ کے لیے ایندھن کی فراہمی کی اجازت دے دی ہے جس سے یہ امکان ختم ہوگیا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں غزہ کا پاور پلانٹ بند ہوجائے گا۔ فلسطینی اہلکاروں نے خبردار کیا تھا کہ ایندھن کی عدم دستیابی کے سبب پاور پلانٹ بدھ کے روز بند ہو جائے گا جس سے غزہ کا وسیع علاقہ میں تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ غزہ میں ایندھن کی ترسیل کی اجازت کے پس منظر میں یورپی اتحاد کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اسرائیل فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے راکٹ حملے روکنے کی کوشش میں غزہ میں ایندھن کی ترسیل کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیمیوں نے اس پالیسی کی مذمت کی ہے اور اسے غیر قانونی اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ اس کے اقدامات جائز ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ایندھن کی سپلائی معطل کرنا ایک سزا ہے جو قابلِ قبول نہیں۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل غزہ میں ایک ملین لیٹر ڈیزل کی ترسیل کی اجازت دے رہا ہے۔ غربِ اردن میں فلسطینی اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کی تھی لیکن کہا تھا کہ غزہ کا پاور سٹیشن ڈیزل کی سپلائی کی اس مقدار سے تین روز تک مزید چل سکے گا۔ | اسی بارے میں فلسطینوں کو قتل عام کی دھمکی29 February, 2008 | آس پاس اسرائیلی کمانڈوز کا حملہ، چار ہلاک13 March, 2008 | آس پاس غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے13 March, 2008 | آس پاس اسرائیل رکاوٹیں ہٹانے پر رضامند30 March, 2008 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ امن کی نئی کوشش30 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||