BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 March, 2008, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے
 فائل فوٹو
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان فضایی حملوں میں غزہ سےراکٹ حملے کرنے والی ٹیم کو نشانہ بنایا گیا ہے
اسرائیل کے فوجی طیاروں نے شمالی غزہ پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی غزہ سے کیے گئے راکٹ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بارہ راکٹ داغے گئے تھے جس سے تباہی ہوئی لیکن کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔

اسرائیلی فضائیہ کے مطابق فضائی حملوں کا نشانہ راکٹ داغنے والے ٹیم تھی۔ حملے میں ہلاکتوں کی اب تک اطلاع نہیں ہے۔

تنظیم اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ اس نے پندرہ راکٹ اور دس مارٹر گولے داغے تھے۔

غزہ سے کیے گئے راکٹ حملے اس اسرائیلی کارروائی کے جواب میں کیے گئے تھے جس میں اسرائیلی کی خفیہ افواج نے غرب اردن کے شہر بیت اللحم میں چار فلسطینی عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا تھا۔

بیت اللحم پر قاتلانہ حملے
منگل کو اسرائیلی کمانڈوز نے غربِ اردن کے شہر بیت اللحم میں ایک کار پر فائرنگ کر کے چار فلسطینی شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں اڑتالیس سالہ محمد شہادہ بھی شامل ہیں جو اسلامی جہاد کے ایک سینیئر رہنما تھے۔ ان کے علاوہ احمد البلبول بھی اس فائرنگ میں ہلاک ہوئے۔ ان کی عمر بھی اڑتالیس برس تھی۔ احمد العقصیٰ برگیڈ کے رہنما تھے۔

دیگر دو ہلاک شدگان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کا تعلق بھی اسلام جہاد گروپ سے تھا۔

غزہ کی پٹی میں تشدد بھڑک اٹھنے سے ایک ہفتے میں ایک سو پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی کمانڈوز کی ایک ٹیم نے جو مقامی لوگوں کے بھیس میں تھی اور فلسطینی میں رجسٹر ہونے والی گاڑی چلا رہی تھی، شدت پسندوں کی گاڑی پر گولیوں کی برسات کر دی۔

اسرائیلی حکام نے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ کمانڈوز شدت پسندوں کو گرفتار کرنا چاہتے تھے لیکن جو انہوں نے دیکھا کہ شدت پسند مسلح تھے تو انہیں گولی چلانی پڑی۔

اسلامی جہاد اور حماس کے فلسطینی اہلکاروں نے اس اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’دشمن‘ نے جو کیا ہے اس سے جنگ بندی کی باتوں کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔

غزہ میں گزشتہ چند دنوں سے خاموشی تھی اور اسرائیلی فوج نے فلسطینی شدت پسسندوں کی جانب سے راکٹ حملوں میں کمی کے بعد اپنی کارروائی کی شدت کم کر دی تھی۔

مصر کی حکومت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

حماس نے اس معاہدے کے لیے اپنی شرائط میں یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی غزہ میں اپنی کارروائی بند کرے اور سرحدوں کو کھولے جس کے بدلے میں حماس کی طرف سے اسرائیلی پر راکٹ باری نہیں ہوگی۔

فلسطینی بچیغزہ پر یواین رپورٹ
’اسرائیلی کارروائیاں نسل پرستی جیسی ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد