BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 March, 2008, 08:54 GMT 13:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی فوج غزہ سے واپس

غزہ میں ہلاک ہونے والوں میں کئی بچے بھی شامل تھے
غزہ میں ہلاک ہونے والوں میں کئی بچے بھی شامل تھے
شمالی غزہ سے اسرائیل کی فوج پانچ دن کی کارروائی کے بعد واپس چلی گئی ہے۔ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق اس کاروائی میں کم سے کم ایک سو پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ کارروائی بدھ سے شروع ہوئی تھی اور سوموار کو اسرائیلی فوج کا شمالی غزہ سے انخلاء تقریباً مکمل ہوگیا ہے۔ اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ زیادہ تر فوج واپس آگئی ہے۔

اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو اسرائیل کے فضائی حملے میں پانچ مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ اس کی یہ کارروائی غزہ سے راکٹ حملوں کے خلاف اس کا دفاع ہے۔

عالمی سطح پر اسرائیلی فوج کی اس نئی کارروائی کی مزمت کی گئی ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل سے بات چیت ختم کردی ہے۔

غزہ میں عینی شاہدین نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیل کی بکتر بند گاڑیوں کا جبلیا کیمپ سے انخلاء شروع ہو گیا ہے۔ جبلیا کیمپ میں اس کارروائی کے دوران خوریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔

حماس کے ترجمان نےخبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا ’دشمنوں کو شکست دے دی گئی ہے۔‘

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ رات گئے اسرائیلی طیاوں نے کم از کم آٹھ حملے کیے جن میں پانچ فلسطینی جنگجو ہلاک ہوئے۔

ان حملوں میں دھاتی فیکٹریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بعض رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے بھی بمباری میں حصہ لیا تھا۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہتھیاروں کی فیکٹریوں پر کئی حملے کیے گئے۔‘

اتوار کے روز پچیس سے زائد راکٹ جنوبی اسرائیل پر داغے گئے تھے جن میں سے کئی اشکلون تک پہنچے۔ اس شہر میں ایک لاکھ بیس ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔

امریکی حکام نے بھی عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسرائیلی کارروائی روکنے پر زور دیا ہے۔

یورپی یونین نے بھی کہا کہ اسرائیل نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ہے ۔ یورپی یونین نے فلسطینیوں پر بھی زور دیا ہے کہ غزہ سے اسرائیل پر کیے جانے والے راکٹ حملے بند ہونے چاہیئیں۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگن نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینا نے اسرائیل کو بات چیت ختم ہونے کا قصوروار ٹھہرایا ہے ۔ ان کا کہنا تھا ’اسرائیلی کارروائی کو مدِنظر رکھتے ہوئے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا بات چیت ختم کرنے کا فلسطینی فیصلہ غلط تھا اور انہیں کو امید ہے کہ یہ بات چیت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد