BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینوں کو قتل عام کی دھمکی
غزہ
گزشتہ دو دنوں میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں چھ بچوں سمیت تقریباً تیس فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے جنوبی شہر ایشکلان پر فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

اسرائیل کے نائب وزیر دفاع ماتان ولانی نے کہا ہے کہ ان راکٹ حملوں سے حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی میں ایک ’شدید ہالوکاسٹ‘ شروع ہو سکتا ہے۔

حماس کے رہنما اور سابق فلسطینی وزیرِ اعظم اسماعیل ھنيہ نے کہا ہے کہ ولانی کے بیان سے غزہ کی جانب اسرائیل کے اصل ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کی مذمت کرے جسے وہ یہودیوں کے ہولوکاسٹ کا نام دیتے ہیں۔ اور اب وہی اسرائیلی ہمارے فلسطینی عوام کو ہولوکاسٹ کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس سے غزا اور فلسطینی عوام کے خلاف ان کے شیطانی اور جارحانہ ارادوں کا ثبوت مہیا ہوتا ہے۔‘

ادھر فسلطینیوں کے خصوصی مذاکرات کار صائب اراکات نے اسماعیل ھنيہ کے الفاظ کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیلی نائب وزیرِ دفاع کے الفاظ سے اسرائیل کے منصوبوں کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ پندرہ لاکھ لوگوں کا قتلِ عام جائز ہے۔ اور وہ بھی ایسے بے بس انسان جو دنیا کے غریب ترین اور تنگ ترین علاقے میں رہ رہے ہیں۔ جہاں ایک ایک مربہ میٹر کی حدود میں چھ چھ افراد گھٹ کر رہ رہے ہیں۔‘

غزہ
اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایک کمسن بچے کو دفن کیا جا رہا ہے

صائب اراکات نے کہا کہ یہ ایسے بے بس لوگ ہیں جن پر 1949 کے جینوا کنوینشن کا اطلاق ہوتا ہے جس میں لڑائی کے دنوں میں سویلین لوگوں کی حفاظت ضروری قرار دی گئی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ اسرائیل دوسری عالمی جنگ میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام کے علاوہ اس لفظ کا استعمال کرے۔

گزشتہ دو دنوں میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں چھ بچوں سمیت تقریباً تیس فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایشکلان میں اپنے ابتدائی وارننگ سسٹم کو کام میں لایا ہے۔ ایشکلان غزہ کی پٹی سے دس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ تازہ فلسطینی حملے میں ایک راکٹ شہر کی ایک رہائشی عمارت پر گرا۔

اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، تاہم ایک دوسرا راکٹ ایک سکول کے قریب جا گرا جس کے نتیجے میں ایک سترہ سالہ لڑکی زخمی ہو گئی۔

ماتان ولانی نے اسرائیلی ملٹری ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’فلسطینی ہم پر جتنے راکٹ داغیں گے وہ اپنے اوپر اتنے ہی بڑے ’ہالوکاسٹ‘ کو دعوت دیں گے کیونکہ ہم اپنا دفاع کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت کا استعمال کریں گے۔‘

ایک الگ بیان میں اسرائیلی پارلیمان کی دفاعی اور خارجی امور کی کمیٹی کے چئیرمین مے کہا ہے کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ غزہ میں حماس کو شکست دے اور ان علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرے جہاں سے یہ راکٹ داغے جاتے ہیں۔

اسماعیل ھنیہ
اسماعیل ھنیہ نے ہولوکاسٹ کے بیان کی شدید مذمت کی ہے

زاکی ہانگبی نے اسرائیلی ریڈیو پر بات کرتےہوئے کہا کہ ’اسرائیل کو ایک سٹریٹیجک فیصلہ لینا ہوگا تاکہ فوج جلد از جلد تیار ہو سکے۔ ‘

اسی دوران اسرائیل نے غزہ پر گزشتہ رات کم از کم تین فضائی حملے کیے۔ جبلیہ پر ہونے والے ایک حملے میں دو بچوں سمیت کم از کم چار افراد زخمی ہوئے۔

بدھ کوایک اسرائیلی شہری راکٹ کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا تھا۔ اب تک ہونے والی فلسطینی ہلاکتوں میں آدھی تعداد عام شہریوں کی ہے جن میں کم از کم چھ بچے شامل ہیں۔

حماس نے تمام فلسطینیوں اور دیگر عرب ممالک سے جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق ایشکلان پر داغے گئے راکٹ تقریباً بائیس کلومیٹر رینج والے ایرانی راکٹ ہیں۔ اسرائیل نے پہلی مرتبہ ایشکلان اور سیڈراٹ میں ’کوڈ ریڈ‘ سائرن بجانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کے درجنوں فوجی شہر میں پوسٹر لگاتے دیکھے گئے ہیں جن میں شہریوں کے لیے ہدایات درج ہیں۔

اسرائیلی حکومت پر کچھ اطراف سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے غزہ پر حملہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے تاہم حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق زیادہ تر اسرائیلی اس مسئلہ کا پرامن حل چاہتے ہیں۔

غزہاجتماع پر پابندی
غزہ میں کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد