رائس: ’تشدد کی ذمہ دار حماس ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اسرائیل سے مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنا چاہیے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے چند روز پہلے یہ بات چیت غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے بعد احتجاج کے طور پر ختم کر دی تھی۔ اسرائیلی فوج کی اس کارروائی میں کئی بچوں سمیت سو سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ان کے مشرق وسطی کے دو روزہ دورے کے ابتدا پر آیا ہے۔ وہ منگل کے روز مصر کے دار الحکومت قاہرہ پہنچیں اور اس دورے پر وہ غرب اردن اور اسرائیل بھی جائیں گی۔ کونڈولیزا رائس نے غزہ میں ہونے والے پر تشدد واقعات کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا۔ انہوں نے اسرائیل پر براہ راست کوئی تنقید نہیں کی لیکن کہا کہ معصوم جانوں کی ضیاع کے معاملے پر توجہ دینی ضروری ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں سے برسلز میں بات کی جہاں قاہرہ کے راستے میں ان کا طیارہ ایندھن کے لیے رکا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ تششد کا یہ تازہ واقعہ حماس کے راکٹ حملوں ی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ’اگر تمام فریقین راضی ہو جائیں تو سال کے آخر تک کوئی سمجھوتہ ممکن ہے۔‘ بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور خطے میں امن مذاکرات کے سلسلے کا حصہ تھا لیکن غزہ پر اسرائیلی حملوں اور بات چیت کے ختم ہونے کے بعد اب اس کا مقصد بات چیت کی بحالی بن چکا ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیلی فوج غزہ سے واپس03 March, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملے جاری، درجنوں فلسطینی ہلاک01 March, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملہ، مزیدچار بچے ہلاک28 February, 2008 | آس پاس اسرائیلی فضائی حملہ، پانچ ہلاک27 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||