BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 May, 2008, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطی:رائس اہم پیش قدمی کی خواہاں

فلسطین
گزشتہ دو برس میں رائس نے تقریبا ہر مہینے اسرائیل اور فلسطین کا دورہ کیا ہے
بش انتظامیہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اس حوالے سے اسے تاحال خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ سیکرٹری نے بھی اس عمل میں تاخیر اور خصوصاً اسرائیلی کوششوں پر جھنھجلاہٹ ظاہر کی ہے۔

کونڈو لیزا رائس نے یروشلم کے راستے میں اپنے ساتھ سفر کرنے والے بعض صحافیوں سے بھی اس امن ایجنڈے کے بارے میں بات کی۔ اس ایجنڈے میں اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر اور غرب اردن میں اسرائیل کی جانب سے سڑکوں کی ناکہ بندی جیسے موضوعات شامل ہیں۔

اس برس مارچ میں امریکی وزیرِ خارجہ کے دورے کے دوران اسرائیل نے اکسٹھ ناکہ بندیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے اب تک صرف چوالیس ناکہ بندیوں کو ہی ختم کیا گیا ہے اور جنہيں بند کیا گیا ہے ان کی اہمیت بھی کافی کم تھی۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیل سے مزید ناکہ بندیوں کو ختم کرنے کے لیے کہيں گی تو ان کا کہنا تھا ’ ہم سب سے پہلے ان کا جائزہ لیں گے جنہیں ختم ہو جانا چاہیے تھا‘۔

ہم گنتی کی لڑائی میں ملوث ہونا نہیں چاہتے جہاں یہ بتایا جا سکے کہ ہم نے اتنی ناکہ بندیاں ختم کر دیں، لیکن اصلیت یہی ہے کہ اس سے فلسطینیوں کی زندگی بہتر نہیں ہو رہی ہے
رائس

کونڈولیزا رائس نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل سے چیک پوسٹوں کے بارے میں بھی بات چیت کرنا چاہتی ہیں کیونکہ ان میں سے بعض کی وجہ سے فلسطینیوں کی زندگی پر اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے مزيد کہا ’ہم گنتی کی لڑائی میں ملوث ہونا نہیں چاہتے جہاں یہ بتایا جا سکے کہ ہم نے اتنی ناکہ بندیاں ختم کر دیں، لیکن اصلیت یہی ہے کہ اس سے فلسطینیوں کی زندگی بہتر نہیں ہو رہی ہے‘۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ چیک پوانٹس بنیادی طور پر فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے ملنے والے سلامتی کے خطرات کے سبب لگائی گئی ہیں۔ کونڈولیزا رائس نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں گی کہ فلسطینی حکام کو کمزور کرنا کم کرے۔

اس سے قبل جمعہ کو محترمہ رائس نے لندن میں مشرق وسطٰی پر عالمی سفارتی قوتوں اور ایڈہاک لیزن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ یہ کمیٹی فلسطین کو بین الاقوامی مالی مدد فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

رائس نے اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا ہے کہ اسرائیل پر کسی طرح کا براہِ راست دباؤ ڈالیں گی۔’یہ دباؤ ڈالنے کی بات نہیں ہے بلکہ پریشانوں کا حل تلاش کرنے کی بات ہے‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے جیسے سیاسی عمل آگے بڑھے گا دونوں فریق مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے۔

گزشتہ دو برس میں رائس نے تقریباً ہر مہینے اسرائیل اور فلسطین کا دورہ کیا ہے۔ ان کا یہ دورہ دونوں فریقین کو بات چیت کرنے کے لیے تیار کرنے اور آئندہ مہینے صدر بش کی آمد سے قبل تیاریاں پوری کرنے کے لیے ہے۔ جنوری میں ہونے والے بش کے دورے سے کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

فائلامیدیں اور اندیشے
کمیپ ڈیوڈ مشرق وسطی امن کانفرنس
حقیقت یا واہمہ؟
’نئے مشرق وسطی‘ پر شکوک کا اظہار
مشرق وسطیٰ بحران
لبنان اور اسرائیل تنازعے کا انجام کیا ہو گا
riceمشن مشرق وسطیٰ
مشرق وسطیٰ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوگا؟
اسرائیل، حزب اللہشاعرانہ سفارتکاری
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ پر بحث
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
اخبارنجف:قصوروار کون؟
پریس کی نظر میں خوں ریزی کا ذمہ دار کون؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد