مشرق وسطی:رائس اہم پیش قدمی کی خواہاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اس حوالے سے اسے تاحال خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ سیکرٹری نے بھی اس عمل میں تاخیر اور خصوصاً اسرائیلی کوششوں پر جھنھجلاہٹ ظاہر کی ہے۔ کونڈو لیزا رائس نے یروشلم کے راستے میں اپنے ساتھ سفر کرنے والے بعض صحافیوں سے بھی اس امن ایجنڈے کے بارے میں بات کی۔ اس ایجنڈے میں اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر اور غرب اردن میں اسرائیل کی جانب سے سڑکوں کی ناکہ بندی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس برس مارچ میں امریکی وزیرِ خارجہ کے دورے کے دوران اسرائیل نے اکسٹھ ناکہ بندیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے اب تک صرف چوالیس ناکہ بندیوں کو ہی ختم کیا گیا ہے اور جنہيں بند کیا گیا ہے ان کی اہمیت بھی کافی کم تھی۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اسرائیل سے مزید ناکہ بندیوں کو ختم کرنے کے لیے کہيں گی تو ان کا کہنا تھا ’ ہم سب سے پہلے ان کا جائزہ لیں گے جنہیں ختم ہو جانا چاہیے تھا‘۔ کونڈولیزا رائس نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل سے چیک پوسٹوں کے بارے میں بھی بات چیت کرنا چاہتی ہیں کیونکہ ان میں سے بعض کی وجہ سے فلسطینیوں کی زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے مزيد کہا ’ہم گنتی کی لڑائی میں ملوث ہونا نہیں چاہتے جہاں یہ بتایا جا سکے کہ ہم نے اتنی ناکہ بندیاں ختم کر دیں، لیکن اصلیت یہی ہے کہ اس سے فلسطینیوں کی زندگی بہتر نہیں ہو رہی ہے‘۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ چیک پوانٹس بنیادی طور پر فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے ملنے والے سلامتی کے خطرات کے سبب لگائی گئی ہیں۔ کونڈولیزا رائس نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں گی کہ فلسطینی حکام کو کمزور کرنا کم کرے۔ اس سے قبل جمعہ کو محترمہ رائس نے لندن میں مشرق وسطٰی پر عالمی سفارتی قوتوں اور ایڈہاک لیزن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ یہ کمیٹی فلسطین کو بین الاقوامی مالی مدد فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ رائس نے اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا ہے کہ اسرائیل پر کسی طرح کا براہِ راست دباؤ ڈالیں گی۔’یہ دباؤ ڈالنے کی بات نہیں ہے بلکہ پریشانوں کا حل تلاش کرنے کی بات ہے‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے جیسے سیاسی عمل آگے بڑھے گا دونوں فریق مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے۔ گزشتہ دو برس میں رائس نے تقریباً ہر مہینے اسرائیل اور فلسطین کا دورہ کیا ہے۔ ان کا یہ دورہ دونوں فریقین کو بات چیت کرنے کے لیے تیار کرنے اور آئندہ مہینے صدر بش کی آمد سے قبل تیاریاں پوری کرنے کے لیے ہے۔ جنوری میں ہونے والے بش کے دورے سے کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں فلسطینوں کو قتل عام کی دھمکی29 February, 2008 | آس پاس امداد بحال کر دی جائے گی: امریکہ17 June, 2007 | آس پاس ’حماس۔فری‘ کابینہ اسرائیل کو منظور17 June, 2007 | آس پاس فلسطینی پارلیمان پر الفتح کا حملہ16 June, 2007 | آس پاس سلام فیاض نئے فلسطینی وزیراعظم15 June, 2007 | آس پاس فلسطینی تشدد کی پرزور مذمت15 June, 2007 | آس پاس غزہ حماس کے مکمل کنٹرول میں15 June, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||