غزہ: الفتح کے درجنوں حامی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک فلسطینی گروپ کا کہنا ہے کہ حماس سے تعلق رکھنے والی سکیورٹی فورسز نے متحارب دھڑے الفتح کے ایک سو باسٹھ حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد کو جمعہ کو غزہ میں ہونے والے دھماکے میں حماس کے پانچ کارکنوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کے بعد پکڑا گیا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق پکڑے جانے والوں میں غزہ میں الفتح کے سیاسی رہنما احمد نصر اور فلسطینی سکیورٹی فورسز کے سابق میجر جنرل عبدالعابد خطاب بھی شامل ہیں۔ حماس نےگرفتار کیے جانے والے افراد کی تعداد کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افراد دھماکے میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار کیے گئے ہیں۔ جمعہ کو ہلاک ہونے والے افراد کے جنازے سے خطاب کرتے ہوئے حماس کے رہنما خلیل الحیا نے کہا کہ ’اس گھناؤنے جرم کے پیچھے الفتح تحریک کا ہاتھ ہے‘۔ تاہم الفتح کا کہنا ہے کہ اس کا ان دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’ یہ دعوٰی کہ دھماکہ الفتح نے کروایا اس حقیقات کو چھپانے کی کوشش ہے کہ حماس میں اندرونی اختلافات پائے جاتے ہیں‘۔ انسانی حقوق گروپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حماس کی سکیورٹی فورسز نے ایسے دسیوں سول سوسائٹیوں کے دفاتر اور سپورٹس کلب بھی بند کردیے ہیں جن کا تعلق الفتح سے تھا۔ الفتح حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حماس کے حامی فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نیوز کے دفتر سے کمپیوٹر اور فائلیں بھی اٹھا کر لے گئے ہیں۔ غزہ میں سنہ 2007 میں حماس کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد تشدد کے واقعات میں کمی آئی تھی اور ان دھماکوں کے بعد ایک مرتبہ پھر علاقے میں کشیدگی پھیلنے کے خدشات ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ دھماکہ، بچی سمیت پانچ ہلاک25 July, 2008 | آس پاس غربِ اردن میں پانی کی شدید کمی01 July, 2008 | آس پاس قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت معطل04 July, 2008 | آس پاس اسرائیل کی جانب سے تفتیش کا حکم21 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||