BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 July, 2008, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کی جانب سے تفتیش کا حکم
اسرائیلی فوج
اسرائیل کی دفاعی فورسز نے اس واقعہ کو سنجیدہ اور فوج کے اقدار کے خلاف قرار دیا ہے
اسرائیل کے انسانی حقوق کے ایک گروپ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو فلم پر اسرائیل حکومت نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

ویڈیو فوٹیج کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک فوجی، ایک زیرِ حراست فلسطینی کو گولی مار رہا ہے۔

ویڈیو میں گولی چلتے ہی تصویر دھندلی ہو جاتی ہے لیکن فلسطینی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ایک ربڑ کی گولی میری بائيں ایڑی میں لگی ہے اور اس کا فوجی ڈاکٹر علاج کر رہا ہے۔

اسرائیل کی دفاعی فورسز نے اس واقعہ کو سنجیدہ اور فوج کے اقدار کے خلاف قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ بی تسلیم کے مطابق یہ واقعہ سات جولائی کو غرب اردن میں پیش آیا تھا۔

بی تسلیم نے بتایا ہے کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بہت قریب سے ایک فوجی زیرِحراست فلسطینی کو ربڑ چڑھی ہوئی سٹیل کی گولی مار رہا ہے جس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔

چودہ برس کی ایک لڑکی نے نلن شہر میں اپنے گھر کی ایک کھڑکی سے یہ ویڈیو بنایا تھا۔ اس شہر میں اسرائیل کی جانب سے غرب اردن کی ناکہ بندی کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوتے رہے ہیں ۔

بی تسلیم کے مطابق انہیں یہ ویڈیو ٹیپ اتوار کو ملا ہے اور اس معاملے میں تفتیش کے لیے انہوں نے اس ٹیپ کی ایک نقل ملڑی پولیس کی تفتیشی یونٹ کو بھیجی ہے۔

اسرائیل حکومت کا کہنا ہے کہ غرب اردن کی ناکہ بندی اس لیے کی گئی ہے کہ خود کش بمباروں کو روکا جا سکے

مقامی میڈیا نے فلسطینی شخص اشرف ابو رحمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران فوجیوں نے مجھے پکڑ لیا اور گرفتار کر لیا۔ اور کچھ دیر بعد میں نے گولی کی آواز سنی اور اپنے جسم میں آگ محسوس کی۔ میں ڈر گیا تھا اور مجھے یہ نہيں پتہ چل پا رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔‘

ستائیس سالہ ابو رحمان نے مزید بتایا ’میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اس کے بعد مجھے کچھ یاد نہیں۔ مجھے لگا کہ میں میرے پیروں میں جان ہی نہيں رہی۔‘

یروشلم پوسٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اسرائیل کے دفاعی ادارے نے کہا ہے ’ فوج کے قوانین حراست میں لیے گئے لوگوں کے ساتھ برا سلوک کی اجازت نہيں دیتے اور فوجیوں اس بات کے پابند ہیں کہ ان کا احترام کریں اور ان کی حفاظت کریں۔‘

اسرائیل حکومت کا کہنا ہے کہ غرب اردن پر ناکہ بندی اس لیے کی گئی ہے کہ خود کش بمباروں کو روکا جا سکے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا مقصد صرف زمین پر قبضہ کرنا ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔ فی الوقت وہاں ہزاروں اسرائیلیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں فوج موجود ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد