’حملہ آور کے ساتھ کوئی نہ تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی شدت پسند تنظیموں کے دعووں کے باوجود اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کو یروشلم کے مغربی حصے میں بلڈوزر سے حملہ کرنے والے فلسطینی باشندے کے ساتھ اور کوئی نہیں تھا۔ حسام دوایت ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کر رہے تھے جب وہ اپنے بلڈوزر کو سڑک پر لے آئے اور وہاں بلڈوزر سے پہلے ایک بس اور بعد میں کئی کارروں کوٹکریں ماریں۔ اس واقعہ میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس نے بلڈوزر ڈارئیور کو کیبن میں گھس کی ہلاک کر دیا۔ تین فلسطینی شدت پسند تنظیموں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس سے پہلے یروشلم میں مارچ میں ایک مذہبی سکول پر فلسطینی شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فلسطینی شدت پسندوں کے جنازوں کے برعکس مشرقی یروشلم میں دوایت کے گھر کے باہر نہ تو لوگ ہیں اور نہ ہی بینر یا پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔
فلسطینی انسانی حقوق کے کارکن حاسب ناشاشبی کے مطابق دوایات کو اسرائیلی حکام کی طرف سے غیر قانونی تعمیراتی کام کرنے پر بھاری جرمانہ اور عمارت کو مسمار کرنے کے احکامات ملے تھے۔ ان کے مطابق حملے کے پیچھے یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ دوایات کے خاندان کے ایک دوست نے کہا کہ ’سب صدمے میں ہیں۔‘ | اسی بارے میں یروشلم:بلڈوزر حملے میں چارہلاک02 July, 2008 | آس پاس اسرائیل قیدیوں کے تبادلے پر راضی29 June, 2008 | آس پاس ’حملے،جنگ بندی کی خلاف ورزی‘25 June, 2008 | آس پاس اسرائیل، حماس جنگ بندی کا آغاز19 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||