BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 July, 2008, 11:00 GMT 16:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ آور کے ساتھ کوئی نہ تھا‘
بلڈوزر حملہ یروشلم
اس واقعہ میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے
فلسطینی شدت پسند تنظیموں کے دعووں کے باوجود اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کو یروشلم کے مغربی حصے میں بلڈوزر سے حملہ کرنے والے فلسطینی باشندے کے ساتھ اور کوئی نہیں تھا۔

حسام دوایت ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کر رہے تھے جب وہ اپنے بلڈوزر کو سڑک پر لے آئے اور وہاں بلڈوزر سے پہلے ایک بس اور بعد میں کئی کارروں کوٹکریں ماریں۔

اس واقعہ میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس نے بلڈوزر ڈارئیور کو کیبن میں گھس کی ہلاک کر دیا۔

تین فلسطینی شدت پسند تنظیموں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس سے پہلے یروشلم میں مارچ میں ایک مذہبی سکول پر فلسطینی شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فلسطینی شدت پسندوں کے جنازوں کے برعکس مشرقی یروشلم میں دوایت کے گھر کے باہر نہ تو لوگ ہیں اور نہ ہی بینر یا پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دوایت اس سے پہلے بھی کئی جرائم میں ملوث رہ چکے تھے تاہم ان کے کسی شدت پسند تنظیم سے تعلقات نہیں تھے۔ اس کے باوجود تحقیقاتی افسران اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا دوایات کو یہ سب کرنے کے لیے کہیں سے ’احکامات‘ ملے تھے۔

فلسطینی انسانی حقوق کے کارکن حاسب ناشاشبی کے مطابق دوایات کو اسرائیلی حکام کی طرف سے غیر قانونی تعمیراتی کام کرنے پر بھاری جرمانہ اور عمارت کو مسمار کرنے کے احکامات ملے تھے۔ ان کے مطابق حملے کے پیچھے یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

دوایات کے خاندان کے ایک دوست نے کہا کہ ’سب صدمے میں ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد