یروشلم:بلڈوزر حملے میں چارہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک فلسطینی باشندے نے یروشلم میں بلڈوزر کو ایک بس اور کئی کاروں سے ٹکرا کر چار لوگوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا ہے۔ زخمیوں میں چار کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے بلڈوزر ڈارئیور کو کیبن میں گھس کی ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیل پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگردی کا واقعہ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینک جو واقعے کے جشم دید گواہ ہیں، نے بتایا کہ کہ یروشلم کی جافا روڈ پر ایک بلڈوزر ڈرائیور نے بلڈوزر کو پہلے بس اور بعد میں کئی کارروں کوٹکریں ماریں۔ اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ واضح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ دہشگرد حملہ تھا۔ فلسطینی تنظیم حماس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اس حملے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ یورشلم کئی سالوں تک فلسطینیوں کے حملوں سے محفوظ رہا ہے لیکن موجودہ سال یہ دوسرا واقعہ ہے ۔مارچ میں ایک فلسطینی باشندے کے سکول کے آٹھ بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ عینی شاہدوں کی مطابق بلڈوزر جو شہر کی طرف جا رہا تھا اس نےایک بس کو ٹکریں مارنا شروع کر دیں اور ڈرائیور کی کوشش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر دے۔ ایک اسرائیلی پولیس اہلکار نے بلڈوزر کے کیبن میں گھس کر ڈرائیور کے سر میں گولی ماری اور اس کی لاش کو سڑک پر پھینک دیا۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے بلڈوزر ڈرائیور کے پاس اسرائیلی شناختی کاغذات تھے اور وہ ماضی میں جرائم میں ملوث رہا ہے۔ | اسی بارے میں غزہ فضائی حملہ، نو فلسطینی ہلاک06 February, 2008 | آس پاس غزہ: بچوں سمیت پانچ ہلاک28 April, 2008 | آس پاس اسرائیل کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ07 May, 2008 | آس پاس ’اسرائیل کے پاس 150 ایٹم بم ہیں‘27 May, 2008 | آس پاس اسرائیل، حماس جنگ بندی کا آغاز19 June, 2008 | آس پاس ’حملے،جنگ بندی کی خلاف ورزی‘25 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||