’اسرائیل کے پاس 150 ایٹم بم ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر نے کہا اسرائیل کے اسلح خانوں میں کم از کم ڈیڑھ سو کے قریب جوہری ہتھیار یا ایٹم بم موجود ہیں۔ جمی کارٹر نے اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں یہ دعوی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کیئے گئے ایک سوال کے جواب میں کیا۔ اسرائیل کے بارے میں عام خیال یہی ہے کہ اس کے پاس متعدد جوہری ہتھیار موجود ہیں تاہم اسرائیل اس بارے میں خاموشی کی پالیسی پر کاربند ہے اور امریکہ بھی اسرائیل کے جوہری پروگرام پر لب کشائی کرنے سے باز رہتا ہے۔ جمی کارٹر نے کہا کہ امریکہ کے پاس بارہ ہزار کے قریب جوہری ہتھیار یا ایٹم بم موجود ہیں اتنی ہی تعداد روس کے پاس ہے اور برطانیہ اور فرانس کے پاس بھی یہ سینکٹروں کی تعداد میں ہیں۔ اس سال کے شروع میں امریکہ کے سابق صدر نے مشرق وسطی کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے حماس کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی تھی اور جسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کے پاس سو سے دو سو کے درمیان جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ ماہرین کی یہ معلومات انیس سو اسی میں سنڈے ٹائمز میں اسرائیل کے جوہری ادارے میں کام کرنے والے ورکر موردچے ونونو کے انٹرویو پر مبنی ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم ایہود اولمرت نے دسمبر دو ہزار چھ اسرائیل کو جوہری صلاحیت رکھنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اسرائیل فوج کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ ہارون زیوی فرکاش نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے جمی کارٹر کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے ایسے عناصر موجود ہیں جو اس طرح کے بیانات کو ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے باز رکھنے کی بین الاقوامی کوششوں کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ جمی کارٹر نے اسرائیل کے بطور ایک ملک کے حمایت کی تاہم انہوں نے اس کی خارجہ اور داخلی پالیسیوں سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرہ ارض پر اس وقت سب سے بڑا جرم سولہ لاکھ فلسطینوں کی اقتصادی ناکہ بندی ہے۔ | اسی بارے میں جمی کارٹر کی بلیئر پر تنقید19 May, 2007 | آس پاس دارفور حملہ، دس امن فوجی ہلاک01 October, 2007 | آس پاس جمی کارٹر خالد مشعل سے ملیں گے18 April, 2008 | آس پاس حماس سے حملے بند کرنے کی اپیل18 April, 2008 | آس پاس ’حماس اسرائیل کو تسلیم کرے گا‘21 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||