جمی کارٹر کی بلیئر پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر نے برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو عراق جنگ کی ’اندھی‘ حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جمی کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ مسٹر بلیئر کی صدر بش کی اس قدر حمایت امریکی صدر کے سامنے ان کی تابعداری کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کے حوالے سے صدر بش کی احمقانہ پالسیوں کی برطانوی حمایت دنیا کے لیے کسی بڑے سانحے سے کم نہیں ہے۔ واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اگلے ماہ اپنے عہدے کو چھوڑ دیں گے۔ مسٹر کارٹر کا کہنا تھا کہ بلئیر اگر سن 2003 میں عراق پر قبضے کی بش انتظامیہ کی پالیسی سے خود کو دور رکھتے تو ممکن تھا کہ امریکی سیاست اور رائے عامہ قطعی مختلف ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق جنگ سے دنیا بھر میں فرقہ پرستی بڑھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عراق جنگ کے معاملے میں گورڈن براؤن امریکی صدر بش کی اتنی زیادہ حمایت سے اجتناب کریں گے۔ سابق امریکی صدر عراق جنگ کے شدید مخالف رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ مسٹر بلیئر صدر بش پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ جمی کارٹر سن 1976 میں جیرالڈ فورڈ کو ہٹا کر اقتدار میں آئے تھے۔ امریکہ کے 39ویں صدر کی حیثیت سے انہوں نے سن 1981 تک اپنے عہدے پر کام کیا۔ سن 2002 میں امن کے لیے کوششوں، سماجی اور معاشی انصاف میں خدمات پر انہیں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا۔ |
اسی بارے میں امریکہ: عراق جنگ کی انکوائری02 February, 2004 | آس پاس عراق جنگ کیخلاف واشنگٹن احتجاج28 January, 2007 | آس پاس عراق جنگ کے لیے سرمائےکا بل منظور11 May, 2007 | آس پاس عراق جنگ کی فنڈِنگ پر اختلافات12 May, 2007 | آس پاس ’لندن حملے عراق جنگ کا نتیجہ ہیں‘18 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||