| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ: عراق جنگ کی انکوائری
بش انتظامیہ جاسوس اداروں کے ذریعے حاصل ہونے والی ان معلومات کی آزادانہ انکوائری کرنے کا اعلان کرنے والی ہے جنہیں عراق پر حملے کا جواز بنایا گیا۔ سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس انکوائری میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ یہ مواد عراق پر حملے کا کس حد تک منصفانہ جواز فراہم کرتا تھا۔ امریکی معائنہ کاروں کے سابق سربراہ ڈیوڈ کے کے اس بیان کے بعد کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار تھے ہی نہیں، بش انتظامیہ پر انکوائر کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ صدر بش اس سے پہلے اس نوع کی کوئی آزادانہ انکوائری کرانے کی مخالفت کر چکے ہیں تاہم اب انہیں کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں کے زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ انکوائر وارن کمیشن کی طرز پر کرائی جائے گی۔ وارن کمیشن نے صدر کینیڈی کے قتل کی تحقیقات کی تھیں۔ حکومت سے باہر کے ماہرین کےعلاوہ اس تحقیقاتی کمیشن میں دونوں طرف کے سینیٹرز ہوں گے۔ اور انہیں تحقیقات مکمل کرنے کے لیے اگلے سال تک کا وقت دیا جائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اس نوع کی انکوائری کے بعد برطانیہ میں بھی ایسی ہی انکوائری کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||