عراق جنگ کی فنڈِنگ پر اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جنگ کی فنڈِنگ کیسے ہو اس معاملے پر امریکہ میں ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے جہاں وائٹ ہاؤس کی کوشش ہے کہ ڈیموکریٹس کے زیرکنٹرول کانگریس اور ریپیبلیکن اراکین کسی ایک پالیسی پر اتفاق کرسکیں۔ صدر جارج بش نے پہلے ہی جنگ کے لیے 100 بلین ڈالر فنڈِنگ کے ایک بِل کو ویٹو کردیا ہے کیوں کہ کانگریس نے اس کی منظوری اس شرط پر دی تھی کہ امریکی فوجیوں کو عراق سے ایک ٹائم ٹیبل کے تحت واپس آنا ہوگا۔ جمعرات کو ایوان نمائندگان نے ایک نئے منصوبے کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت 43 بلین ڈالر فوری طور پر جنگ کے لیے فراہم کیے جائیں گے لیکن اس کے تحت وائٹ ہاؤس کو ’عراق میں تسلی بخش پیش رفت‘ کی ایک رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ لگ بھگ 50 بلین ڈالر کی دوسری قسط کے لیے آئندہ جولائی میں ایوان نمائندگان میں ووٹنگ ہوگی۔ لیکن ریپبلیکن پارٹی کا کہنا ہے کہ دو قسطوں کا یہ طریقہ فعال ثابت نہیں ہوگا۔ لہذا جارج بش نے کہا ہے کہ وہ اس بِل کو ویٹو کریں گے جس کے تحت 43 بلین ڈالر کی فوری فنڈِنگ مہیا کی گئی ہے۔
تمام جماعتوں نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو مئی کے آخر تک حل کرلینا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے درمیان اتفاق ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور شاید اسے طے کرنے کے لیے انہیں سرتوڑ کوششیں کرنی ہونگی۔ ایک بات جس پر سبھی اتفاق کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ عراقی حکومت کے سامنے ایسے ’بینچ مارک‘ رکھے جائیں جنہیں وہ پورا کرنے کی کوشش کریں۔ بش انتظامیہ پہلے سے ہی عراقی پارلیمان پر دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ آئین میں تبدیلیاں کرے، صوبائی انتخابات کے لیے تاریخ کا تعین کرے اور اس قانون کی منظوری دے جس کے تحت تیل کے ذرائع سے ہونے والی آمدنی میں تمام صوبوں کو حصہ مل سکے۔ جارج بش نے کہا ہے کہ اس طرح کے بینچ مارک عراقی حکومت کے لیے اہم ہیں۔ تاہم وہ جنگِ عراق کی فنڈِنگ کے بل پر دستخط کرنے کے لیے اس طرح کے شرائط کو منظور نہیں کرنے والے ہیں۔ اور یہ ایسا نکتہ ہے جس پر ڈیموکریٹ اور کچھ اعتدال پسند ریپبلیکن اتفاق نہیں کریں گے۔ ڈیموکریٹس کے لیے یہی ایک موقع ہے جب بش انتظامیہ پر عراق میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت صدر بش کو ایک بلینک چیک نہیں دےگی۔ ڈیموکریٹس کی قیادت سمجھتی ہے کہ اسے بیشتر امریکیوں کی حمایت حاصل ہے کہ فوجیوں کو عراق سے واپس لایا جائے۔ لیکن امریکی صدر کی بار بار مخالفت اور فوجیوں کے لیے فنڈز کی فراہمی میں تعطل سے ڈیموکریٹس پر جنگ کے وقت فوجیوں کی حمایت نہ کرنے کا الزام لگ سکتا ہے۔ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے پہلے ہی وارننگ دی ہے کہ فنڈِنگ میں تاخیر سے امریکی فوج کی کارروائیاں کئی جگہ متاثر ہوسکتی ہیں۔ اسی دوران سینیئر ریپبلیکن سیاست دانوں نے جارج بش کو کہا ہے کہ وہ غیرمعینہ مدت تک کے لیے ان کی حمایت کی امید نہ رکھیں کیونکہ عراق کی ’غیرمقبول جنگ‘ سے سن 2008 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلیکن جماعت کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حالات کیا رخ لیں گے اور جنگ عراق کی پالیسی کیسے متاثر ہوگی اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ستمبر میں جنرل ڈیوِڈ پیٹریوس اپنی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔ وہ عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر ہیں اور اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالیں گے کہ بغداد میں مزید فوجیوں کی حالیہ تعیناتی کا کوئی مثبت اثر پڑا ہے یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||