 | | | عراق میں صرف دو ہزار چھ میں ایک سو اسی اساتذہ کو ہلاک کر دیا گیا (فائل فوٹو) |
اقوام متحدہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اساتذہ اور طلباء کے اغواء اور قتل، سکولوں اور یونیورسٹیوں میں بم دھماکوں سمیت تعلیمی اداروں پر حملوں میں ڈرامائی اضافے کو روکنے کی کوشش کریں۔ اقوام متحدہ کی تعلیمی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ برے حالات عراق میں ہیں جہاں گزشتہ برس ملک کے تیس لاکھ طلباء میں سے پچھہتر فی صد تعلیمی اداروں میں جا رہے تھے اور اب ان کی تعداد کم ہو کر تیس فی صد رہ گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے تعلیم کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ’سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے گھٹیا ہتھکنڈوں کے ذریعے لاکھوں طلباء کی تعلیم کی قربانی‘ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں طلباء، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر کیے جانے والے حملوں کے ذمہ دار فرقہ پرست، علیحدگی پسند اور متحارب گروپ ہیں۔
 |  صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے دو سو اسی اساتذہ مارے جا چکے ہیں۔ صرف دو ہزار چھ میں فروری اور نومبر کے درمیانی عرصے میں ایک سو اسی اساتذہ کو ہلاک کر دیا گیا۔  |
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک عراق میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے دو سو اسی اساتذہ مارے جا چکے ہیں۔ صرف دو ہزار چھ میں فروری اور نومبر کے درمیانی عرصے میں ایک سو اسی اساتذہ کو ہلاک کر دیا گیا۔عراق کے علاوہ رپورٹ میں جن دیگر ممالک میں تعلیمی اداروں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کی گئی ہے ان میں کولمبیا، برما اور تھائی لینڈ بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کولمبیا اور برما میں سب سے بڑا مسئلہ مخلف گروپوں کی جانب سے بچوں کو بطور سپاہی بھرتی کیا جانا جبکہ تھائی لینڈ میں کم سے کم ایک سو سکولوں کو نذر آتش کر دیا جانا ہے۔ |