دارفور حملہ، دس امن فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کے فسادزدہ علاقے دارفور میں افریقن یونین کے ایک فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم سے کم دس امن فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ حملہ آوروں نے لگ بھگ تیس گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے امن فوجیوں کے اس اڈے کو روند ڈالا اور افریقن یونین کے امن فوجیوں کی گاڑیاں اور سامان لوٹ لی گئیں۔ اس حملے میں سات امن فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ کم سے کم پچاس لاپتہ بتائے گئے ہیں۔ افریقن یونین کے ایک بیان کے مطابق دارفور میں سن 2003 میں امن فوجیوں کی تعیناتی کے بعد سے اس طرح کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ بی بی سی کے افریقہ امور کے تجزیہ نگار مارٹِن پلوٹ کا کہنا ہے کہ دارفور میں یہ تازہ ترین لڑائی ایسے وقت ہوئی ہے جب افریقن یونین اور اقوام متحدہ کے درمیان دارفور کے معاملے پر بات چیت ہونے والی ہے۔ افریقن یونین اور اقوام متحدہ اس کوشش میں ہیں کہ سوڈان کی حکومت اور باغیوں کے درمیان امن مذاکرات شروع کیے جاسکیں۔ مارٹِن پلوٹ کے مطابق تازہ لڑائی کے بعد ایک امن سمجھوتہ نہ ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ باغی تنظیم جسٹِس اینڈ ایکوالٹی موومنٹ یعنی ’تحریک انصاف اور مساوات‘ کے ایک ترجمان نے امن فوجیوں پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ اس کے تین باغی کمانڈروں نے یہ حملہ کیا ہے۔ تحریک کے ترجمان ابراہیم جلیل نے کہا ان کمانڈروں کو تنظیم سے خارج کردیا گیا ہے اور اب وہ اسلحے اور گاڑیوں کے لیے لوٹ مار کررہے ہیں۔ ابراہیم جلیل کے مطابق یہ کمانڈر حکومتی افواج کے خلاف نہیں لڑسکتے اور امن فوجیوں پر حملہ کرنا ان کے لیے آسان تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ سوڈان لِبریشن آرمی سے علیحدہ ہونے والے کچھ فوجیوں نے ان کمانڈروں کا ساتھ دیا۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق حملہ آور ہتھیار اور گاڑیاں لیکر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دارفور میں اقوام متحدہ کے لگ بھگ سات ہزار فوجی تعینات ہیں لیکن انہیں محدود اختیارات حاصل ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے افریقن یونین کے فوجیوں کی تعداد بڑھاکر چھبیس ہزار کرنے کی تجویز منظور کردی ہے۔ درفور میں قیام امن کی ایک اور کوشش کے لیے اتوار کے روز آرچ بِشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو سوڈان کے دارالحکومت خرطوم پہنچے۔ ان کے ساتھ ایک وفد بھی ہے جس میں عراق میں اقوام متحدہ کے سابق سفیر لخدار براہیمی اور سابق امریکی صدر جِمی کارٹر شامل ہیں۔ دارفور میں گزشتہ چار برسوں سے جاری تشدد میں لگ بھگ دو لاکھ افراد مارے گئے ہیں اور دو ملین لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔ | اسی بارے میں دارفور کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے29 April, 2007 | آس پاس دارفور کے باغی اتحاد کے خواہاں04 August, 2007 | آس پاس سوڈان کو امریکی دھمکی14 December, 2006 | آس پاس جینیوا میں دارفور پر ہنگامی اجلاس13 December, 2006 | آس پاس ’اقوام متحدہ افریقہ کی مدد کرے‘17 November, 2006 | آس پاس دارفور میں 27 ’بچوں کا قتل‘04 November, 2006 | آس پاس سفیر کو سوڈان چھوڑنے کا حکم22 October, 2006 | آس پاس جنرل اسمبلی سے بش کا خطاب19 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||