’اقوام متحدہ افریقہ کی مدد کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کے صدر عمر البشیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دارفور میں امن کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے افریقی یونین کے دستوں کی حمایت کے اقدام کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اپنے بیان میں انہوں نے اس معاہدے کا کوئی ذکر نہیں کیا جو (دارفور میں) مبینہ طور پر اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی مشترکہ فورس متعارف کرانے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ سوڈان نے ہمیشہ اس تجویز کی مخالفت کی ہے کہ دارفور میں افریقی یونین کی بجائے اقوام متحدہ کے دستوں کا عمل دخل بڑھایا جائے۔ دارفور میں تین سالوں سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تیس لاکھ کے قریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دارفور پر ایک ’اصولی‘ معاہدہ طے پا گیا ہے، لیکن سوڈانی حکومت نے اس کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دارفور کے بحران پر مذاکرات ایتھوپیا کے دارالحکومت میں ہوئے۔ مشرقی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم مائینٹ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے حکام ابھی بھی اصرار کر رہے ہیں کہ دارفور میں امن دستوں کی قیادت انہوں نے سنبھال لی ہے۔ لیکن صدر بشیر نے زور دے کر کہا ہے ’اقوام متحدہ افریقی یونین کی مدد کرے گی‘۔ | اسی بارے میں دارفور میں 27 ’بچوں کا قتل‘04 November, 2006 | آس پاس سفیر کو سوڈان چھوڑنے کا حکم22 October, 2006 | آس پاس دارفور: شواہد جمع ہوگئے15 June, 2006 | آس پاس دارفور میں امن سمجھوتہ طے پا گیا06 May, 2006 | آس پاس ’دارفور میں قتلِ عام ہو رہا ہے‘21 July, 2005 | آس پاس سوڈان حکومت پرہلاکتوں کا الزام01 February, 2005 | آس پاس عرب لیگ، سوڈان کی حمایت09 August, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||