BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 November, 2006, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اقوام متحدہ افریقہ کی مدد کرے‘
دارفور
دارفور میں تین سالوں سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں
سوڈان کے صدر عمر البشیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دارفور میں امن کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے افریقی یونین کے دستوں کی حمایت کے اقدام کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

تاہم اپنے بیان میں انہوں نے اس معاہدے کا کوئی ذکر نہیں کیا جو (دارفور میں) مبینہ طور پر اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی مشترکہ فورس متعارف کرانے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

سوڈان نے ہمیشہ اس تجویز کی مخالفت کی ہے کہ دارفور میں افریقی یونین کی بجائے اقوام متحدہ کے دستوں کا عمل دخل بڑھایا جائے۔

دارفور میں تین سالوں سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تیس لاکھ کے قریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دارفور پر ایک ’اصولی‘ معاہدہ طے پا گیا ہے، لیکن سوڈانی حکومت نے اس کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دارفور کے بحران پر مذاکرات ایتھوپیا کے دارالحکومت میں ہوئے۔

مشرقی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم مائینٹ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے حکام ابھی بھی اصرار کر رہے ہیں کہ دارفور میں امن دستوں کی قیادت انہوں نے سنبھال لی ہے۔ لیکن صدر بشیر نے زور دے کر کہا ہے ’اقوام متحدہ افریقی یونین کی مدد کرے گی‘۔

اسی بارے میں
عرب لیگ، سوڈان کی حمایت
09 August, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد