دارفور: شواہد جمع ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی عدالت کے سرکاری وکیل نے کہا ہے کہ انہوں نے سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور میں ہزاروں عام لوگوں کی ہلاکتوں اور عورتوں کو ریپ کیے جانے کے شوہد اکھٹے کیے ہیں۔ لوئی مرینو اوکامپو نے، جو کہ انسانیت کے خلاف جرائم کی تفتیش کر رہے ہیں، یہ بات اقوام متحدہ کو اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ انہوں نے رپورٹ میں دارفور کی صورت حال کے بارے میں سوڈان کی حکومت کی تحقیقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس رپورٹ کو اس لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اگر سوڈان دارفور کے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بین الاقوامی عدالت اپنے طور پر مقدمے کا آغاز کر سکتی ہے۔ اگرچہ عدالت کے اپنے تفتیش کار دارفور نہیں جا سکے ہیں لیکن انہوں نے سوڈان کے مغربی علاقے میں ہزاروں ہلاکتوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کر لی ہیں۔ اپنی رپورٹ کو شائع کرنے کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسٹر اوکامپو نے کہا کہ انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جب تفتیش مکمل کرنے اور دارفور میں انسانیت کے مجرموں کی نشاندہی کرنے کے لیے غیرمشروط تعاون ضروری ہو جائے گا۔‘ واضح رہے کہ بین الاقوامی عدالت کے تفتیش کاروں نے ’دارفور میں جرائم کا ڈیٹا بیس‘ کے عنوان کے تحت جو فہرست تیار کی ہے اس میں ہزاروں لوگوں کے قتل عام کی تفصیلات موجود ہیں۔ اسی طرح مسٹر اوکامپو نے جو رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ دارفور میں پر تشدد کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً بیس لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ دوسری جانب سوڈانی حکام کا اصرار ہے کہ وہ دارفور میں کی جانے والی زیادتیوں کی تفتیش کرنے کے لیے عدالتیں قائم کر رہے ہیں لیکن مسٹر اوکاپمو کہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ سوڈانی حکومت کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ سوڈانی حکومت اس بات پر رضامند ہو گئی ہے کہ بین الاقوامی عدالت کے تفتیش کار سرکاری اہلکاروں کےبیانات لے سکتے ہے۔ ان اہلکاروں کے ساتھ انٹرویوز کا آغاز اس سال اگست میں ہوگا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں دارفور میں تقریباً دو لاکھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں زیادہ تر ان لوگوں کی ہے جوحکومت کے حمایت یافتہ ملیشیا کی طرف سے عام شہریوں پر حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سوڈانی حکومت پر الزام ہے کہ وہ عرب نژاد لوگوں کے مقابلے میں وہاں کی افریقی النسل آبادی کے ساتھ زیادتی کرتی ہے اور عرب نژاد ملیشیا کی حمایت کرتی ہے۔ قتل عام اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کی تفتیش کے لیے اقوام متحدہ نے بین الاقوامی عدالت سنہ دو ہزار دو میں ترتیب دی تھی۔ | اسی بارے میں سوڈان، شہروں میں خوف و ہراس04 August, 2005 | آس پاس سوڈان کی اسامہ کے بیان سے لاتعلقی24 April, 2006 | آس پاس احتجاجی کیمپ، 20 سوڈانی ہلاک30 December, 2005 | آس پاس سوڈان میں فسادات 84 افراد ہلاک03 August, 2005 | آس پاس سوڈان، صدر بش ایلچی بھیجیں گے02 August, 2005 | آس پاس سوڈان حکومت پرہلاکتوں کا الزام01 February, 2005 | آس پاس سوڈان کا مسئلہ کیا ہے؟03 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||