BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 December, 2005, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاجی کیمپ، 20 سوڈانی ہلاک
مظاہرین
پولیس نے انہیں بسوں میں بھرنے کی کوشش کی
مصر میں وزارت داخلہ کا اب کہنا ہے کہ قاہرہ میں پولیس کے ایک عارضی طور پر قائم احتجاجی کیمپ کو ہٹانے کی کوشش میں ہلاک ہونے والے سوڈانی تارکین کی تعداد بیس ہے۔ اس سے پہلے ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی گئی تھی۔

جن سوڈانی مظاہرین نے کیمپ چھوڑنے سے انکار کیا تو ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے انہیں واٹر کینن ( پانی کی توپ) کی مدد سے منتشر کرنے کی کوشش کی۔

سوڈانی مظاہرین نے اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب یہ عارضی کیمپ قائم کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے مظاہرین کو بسوں میں بھرنے کی کوشش سے کیمپ میں بھگدڑ مچ گئی۔

ان تارکین وطن کا مطالبہ تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارے برائے مہاجرین یا یو این ایچ سی آر انہیں ملک میں بہتر صورت حال کے ساتھ جگہ دلوائے لیکن یو این سی آر کا کہنا ہے کہ اس کے پاس مظاہرین کے اس مطالبے کو پورا کرنے کی کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں پولیس کے جوان جو ڈنڈوں اور ڈھالوں سے لیس تھے انہوں نے مظاہرین کے کیمپ پر تقریبا پانچ بجے کے قریب دھاوا بول دیا۔

اقوام متحدہ کے سفیر برائے مہاجرین اینٹونیو نے کہا ہے کہ ان ہلاکتوں پر انہیں شدید دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’اس طرح کے تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع کا کوئی جواز نہیں ہے‘۔

وزارت داخلہ کے مطابق بھگڈر میں تیس کے قریب مظاہرین زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر بوڑھے اور نوجوان ہیں جنہیں فورا طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان میں دس مر گئے۔

عارضی کیمپ کئی ماہ سے قائم تھا

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں تئیس پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین کے رہنماؤں کی جانب سے پولیس کے خلاف حملوں کا الزام لگایا۔

وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کئی بار کوششیں کی گئی جو بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب تارکین وطن نے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، کیمپ چھوڑنے میں مزاحمت کی کوشش کی تو پولیس انہیں گھسیٹ کر بسوں میں بھرنے لگی۔

احتجاج میں شامل ایک شخص نے چیخ کا کہا کہ ’وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں۔ ہمارے مطالبات قانونی ہیں یہاں احتجاج کرنا ہمارا حق ہے اور ہمارے پاس یہی ایک راستہ ہے‘۔

انتیس ستمبر کو قائم ہونے والے اس احتجاجی کیمپ میں تین ہزار سے زائد افراد رہ رہے تھے اور ان میں سے بعض تو کھلے آسمان تلے سوتےتھے۔

احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب بعض افراد جنہوں نے پناہ گزین کی حیثیت حاصل کرنے کی درخواست دی انہیں اس میں ناکامی ہوئی اس کے بعد سے یواین ایچ سی آر نے ان افراد کی امداد روک دی۔

عارضی کیمپ کے قائم ہونے کے بعد سے کئی افراد کا انتقال بھی ہوا اور کئی بچے اسی جگہ پیدا ہوئےہیں۔

یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے نیٹ ورک افریقہ کو بتایا کہ ادارے نے تارکین وطن کو اپنے دائرہ اختیار میں آنےوالی تمام چیزوں کی پیشکش کی۔

ترجمان نے کہا کہ ہم نے انہیں اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ ان کے بعض مطالبات پورے ہو سکتے ہیں لیکن ان میں سے بعض ایسے ہیں جو غیر حقیقی ہیں۔

ان کے مطابق ان افراد میں سے زیادہ تر ظلم وستم سے تنگ آ کر یہاں نہیں آئے ہیں بلکہ ان کے یہاں آنے کا مقصد حصول معاش ہے اس لیے یہ افراد پناہ گزین کے سٹیٹس کے لیے قائم شرائط پر پورا نہیں اترتے لیکن بہت سے مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سوڈان واپس جانا محفوظ نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد