سوڈان کی اسامہ کے بیان سے لاتعلقی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کے بعد سوڈان کی حکومت نے بھی اسامہ بن لادن کی جانب سے جنوبی سوڈان میں صلیبی جنگ شروع کرنے سے متعلق بیان سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ اسامہ بن لادن کے تازہ ترین صوتی پیغام میں انہوں نے’ عراق اور سوڈان کے علاقے دارفر میں حالات کو’اسلام کے خلاف صیہونی جنگ‘ کا ثبوت قرار دیا تھا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں اسلامی مزاحمت کاروں سے اپیل کی تھی کہ وہ’جنوبی سوڈان میں ایک طویل صلیبی جنگ کے لیئے تیاری کریں‘۔ سوڈان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جمال محمد ابراہیم نے اسامہ کے اس بیان سے فوری طور پر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’ان بیانات سے سوڈان کا کوئی تعلق نہیں اور ہمیں عالمی دنیا اور مجاہدین کی لڑائی یا کسی صلیبی جنگ کی کوئی فکر نہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ہم دارفر کے مسئلے کے ایک پرامن حل کے لیئے سنجیدہ ہیں‘۔ دارفر مسئلے کے دونوں فریق مسلمان ہیں اور ان میں سے ایک گروہ کا تعلق ’سوڈانی اسلامسٹ گروپ‘ سے بتایا جاتا ہے۔ اس سے قبل فلسطین کی حماس حکومت نے بھی خود کو اسامہ بن لادن کی اس تنقید سے دور رکھنے کی کوشش کی جو ان کے اس نئے ٹیپ کے ذریعے مغربی ملکوں پر کی گئی۔ حماس کے ترجمان سمیع ابو ظہوری نے کہا ہے کہ حماس حکومت مغربی ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’حماس کا القاعدہ کے نظریے سے باکل مختلف ہے‘۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض مغربی ملکوں کی پالیسیاں کشیدگی کو ہوا دینے والی ہیں۔ | اسی بارے میں آواز اسامہ بن لادن ہی کی ہے: امریکہ24 April, 2006 | آس پاس ’یہ یہودیوں کی صلیبی جنگ ہے‘23 April, 2006 | آس پاس ’حماس القاعدہ سے بالکل مختلف ہے‘ 23 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||