سفیر کو سوڈان چھوڑنے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کی حکومت نے دارالحکومت خرطوم میں اقوام متحدہ کے سفیر یان پرونک کو تین دن کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے سے قبل سوڈانی فوج کے سربراہ نے یان پرونک پر ان کی اپنی ذاتی ویب سائٹ پر ایک مضمون میں غلط انفارمیشن شائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔ سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی ثنا کے مطابق انہیں تین دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ سوڈانی فوج نے اقوام متحدہ کے سفیر پر ’افواج کے خلاف جنگ لڑنے کا‘ الزام لگایا اور انہیں ملک بدرکرنے کا مطالبہ کیا۔ اے ایف پی نے ’ثنا‘ کے حوالے سے اس اطلاع کی تصدیق کردی ہے کہ سوڈان کی وزارت خارجہ نے یان پرونک کو بہتر گھنٹوں کے اندر ملک سے نکل جانے کا حکم دیا۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر اپنے ذاتی بلاگ میں یان پرونک نے لکھا کہ سوڈان کی فوج کو دارفور میں نقصانات ہورہے ہیں۔ سوڈانی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے اس بیان سے فوجیوں کا ’کام منفی طور پر متاثر‘ ہوتا ہے۔
سوڈانی فوج کے سابق ترجمان محمد بشیر سلیمان نے بتایا کہ مسٹر پرونک کا بیان مغرب کی کوششوں کا حصہ ہے کہ سوڈان دارفور میں بین الاقوامی فوج کی اجازت دے۔ ایک اندازے کے مطابق دارفور میں تین سال سے جاری نسلی تشدد کی وجہ سے دو لاکھ لوگ ہلاک اور لگ بھگ دو ملین بےگھر ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے دارفور میں بیس ہزار امن فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو وہاں افریقی یونین کے سات ہزار فوجیوں کی جگہ لیں گے جو تشدد کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یان پروانک نے لکھا تھا کہ دارفور میں سینکڑوں ہلاکتیں پیش آئی ہیں اور لوگوں کو قیدی بنا لیا گیا اور یہ کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود حکومت حامی عرب ملیشیا مقامی قبائلیوں پر تشدد ڈھارہے ہیں۔ | اسی بارے میں قتلِ عام نہیں ہوا: موسیٰ ہلال15 November, 2004 | آس پاس اقوام متحدہ کا سوڈان پر اجلاس18 November, 2004 | آس پاس دارفور: ایک لاکھ اسی ہزار ہلاک14 March, 2005 | آس پاس ’دارفور میں قتلِ عام ہو رہا ہے‘21 July, 2005 | آس پاس دارفور ملزمان پر پابندیاں26 April, 2006 | آس پاس دارفور: مزید48 گھنٹے کی مہلت01 May, 2006 | آس پاس دارفور میں امن سمجھوتہ طے پا گیا06 May, 2006 | آس پاس دارفور: شواہد جمع ہوگئے15 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||