دارفور: مزید48 گھنٹے کی مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کے علاقے دارفور میں متحارب گروہوں کو امن معاہدے پر پہنچنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مزید مہلت دے دی گئی ہے۔ افریقی اتحاد کے مصالحت کاروں نے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں طے ہونے والی مہلت کے گزر جانے کے بعد متحارب گروپوں کو امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے مزید اڑتالیس گھنٹے دے دیئے۔ سوڈان کی حکومت اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیئے تیار ہے لیکن باغیوں کے مختلف گروہ اس پر اتفاق رائے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ باغیوں کے دو گروہوں نے اس معاہدے کو موجود صورت میں ماننے سے انکار کردیا ہے لیکن باغیوں کے ایک بڑے گروہ ’سوڈانی لبریشن آرمی‘ نے معاہدے کو رد نہیں کیا ہے۔ مذاکرات میں شامل افریقی اتحاد کے مصلحت کاروں کے سربراہ سلیم احمد سلیم نے رات گئے مصلحت کاروں کے ایک اجلاس کے بعد کہا کہ ’ہمیں گھڑی کو مزید اڑتالیس گھنٹوں کے لیئے روکنا ہو گا۔‘ باغیوں کے گروہوں اور حکومت کے درمیان سمجھوتے پر دستخطوں کے لیے مہلت امریکہ کی درخواست پر دی گئی ہے۔ سوڈان کے پسماندہ علاقے دارفور میں موجودہ تنازعہ سن دوہزار تین میں شروع ہوا جب ایک باغی گروہ نے سرکاری تنضیبات پر حملے شروع کر دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ خرطوم کی حکومت اس علاقے کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عربوں کے مقابلے میں سیاہ فام افریقیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ باغیوں کے دو بڑے گروہ ہیں جن میں سوڈان لبریشن آرمی اور’ جسٹس اور ایکویلٹی مومٹنٹ‘ شامل ہیں اور ان کے سوڈان کے حزب اختلاف کے ایک سینئر رہنما حسن التربی سے بھی روابط ہیں۔ حکومت نے باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا دفاع آپ کے تحت کچھ گروہوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم حکومت نے جانجاوید سے تعلقات کی خبروں کی تردید کی ہے۔ جانجاوید وسیع علاقے میں مقامی افریقی آبادیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دارفور کے ان علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کا کہنا ہے کہ بہت سے علاقوں میں باغیوں کے خلاف حکومت کی طرف سے فضائی حملوں کے بعد گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار مسلح جانجاوید آبادیوں میں گھس آتے ہیں اور لوگوں کا قتل کر دیتے ہیں عورتوں کی آبروریرزی اور لوٹ مار کرتے ہیں۔ کئی عورتوں کا کہنا ہے کہ انہیں جانجاوید اٹھا کر لیئے گئے اور کئی ہفتوں تک ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی رہی۔ سوڈان کی حکومت جانجاوید سے کسی قسم کے تعلق کی تردید کرتی ہے اور صدر عمر البشر ان کو چور اور گینگسٹر قرار دیتے ہیں۔ کئی لاکھ لوگ اپنے گھر بار چھوڑے کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بہت سے لوگوں نے دارفور کے بڑے قصبوں میں قائم مہاجرین کے کیمپوں میں پناہ لے لی ہے جہاں پینے کا صاف پانی، خوراک اور علاج معالجے کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ ان کیمپوں کے باہر جانجاوید گھومتے رہتے ہیں اور کیمپ سے باہر نکلنے والے مردوں کو قتل کردتیے ہیں اور عورتوں کو اٹھا کر لیے جاتے ہیں۔ دو لاکھ کے قریب لوگوں چاڈ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ باغیوں کے ایک گروہ جسٹس اینڈ ایکویلٹی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مصالحت کاروں کی طرف سے تجویز کردہ معاہدہ ان کے لیے اپنی موجود شکل میں قابل قبول نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’دارفور میں قتلِ عام ہو رہا ہے‘21 July, 2005 | آس پاس دارفور ملزمان پر پابندیاں26 April, 2006 | آس پاس ’یہ یہودیوں کی صلیبی جنگ ہے‘23 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||