دارفور ملزمان پر پابندیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت ان چار سوڈانی باشندوں پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جن پر سوڈان کے علاقے دارفور میں جنگی جرائم کا الزام ہے۔ ان چار افراد میں دو باغیوں کے رہنما، ایک فضائیہ کے سابق سربراہ اور ایک حکومت کی حامی ملیشیا کے رہنما شامل ہیں۔ ان چاروں پر بڑے پیمانے پر مظلم ڈھانے کا الزام ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق دارفور میں شہریوں پر ملیشیا کے حملوں کے شواہد موجود ہیں۔ سوڈان کے اس علاقے میں تشدد آمیز کارروائوں میں قریباً ایک لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ قریباً بیس لاکھ بےگھر ہوگئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ دارفور میں اس وقت صورتحال اتنی ہی خراب ہے جیسا کے 2004 میں اس وقت تھی جب اس مسئلہ نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کی دارفور میں ایسے بے شمار افراد کے ساتھ ملاقات ہوئی جو اپنے گاؤں چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر حکومتی طیاروں اور فوج نے حملے کیے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق اس علاقے میں بمباری اور فائرنگ کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد امریکی تعاون سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دارفور میں سیاہ فام افریقیوں کے خلاف مظالم ڈھائے گئے ہیں۔ جنگی جرائم کے ملزمان آدم یعقوب شانت، جبرئیل عبدالکریم بیداری، غفار محمد الاحسان اور شیخ موسٰی ہلال کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی ہوگی اور ان کے کئی اثاثے منجمد کردیے جائیں گے۔ پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کرنے میں اقوام متحدہ کو کئی ہفتے کا وقت لگ چکا ہے اور ان پر عملدرآمد مزید مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ | اسی بارے میں دارفور میں شرح اموات بڑھ رہی ہے14 September, 2004 | آس پاس اقوام متحدہ کا سوڈان پر اجلاس18 November, 2004 | آس پاس سوڈان:حکومت اور باغیوں میں معاہدہ09 January, 2005 | آس پاس ’امریکہ کی ساکھ کمزور ہوئی ہے‘13 January, 2005 | آس پاس سوڈان حکومت پرہلاکتوں کا الزام01 February, 2005 | آس پاس دارفور: ایک لاکھ اسی ہزار ہلاک14 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||