BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 November, 2004, 04:24 GMT 09:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قتلِ عام نہیں ہوا: موسیٰ ہلال
موسیٰ ہلال
موسیٰ ہلال کے متعلق شبہ ہے کہ وہ جنجاوید ملیشیا کے رہنما ہیں
سوڈان کے دارفور علاقے میں قتلِ عام کا مبینہ طور پر حکم دینے والے قبائلی رہنما نے کہا ہے کہ قتلِ عام کے الزامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

موسیٰ ہلال نے، جن پر امریکی وزارتِ خارجہ کو شبہ ہے کہ وہ عرب جنجاوید ملیشیا کے رہنما ہیں، بی بی سی پینوراما پروگرام میں بتایا کہ علاقے میں ہلاکتیں اصل میں جنگ کی بازگشت ہے۔

موسیٰ ہلال سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں رہتے ہیں اور ان کے متعلق خیال ہے کہ وہ جنجاوید ملیشیا کے سولہ اڈوں میں سے ایک اڈا چلا رہے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں ذرائع ابلاغ اور مغرب پر الزام لگایا کہ وہ حالات کو بدتر بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’قبریں اور لاشیں کہاں ہیں؟ ہاں، اس جنگ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن اتنی نہیں جتنی بتائی جا رہی ہیں‘۔

تینتالیس سالہ موسیٰ ہلال نے الزام لگایا کہ دارفور میں ہلاکتوں کی ذمہ دار سوڈان لبریشن آرمی ہے جس نے بقول انکے یہ لڑائی شروع کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس بارے میں میرا موقف بہت واضح ہے کہ جنگ کا اپنا ردِ عمل ہوتا ہے‘۔

’باغیوں نے یہ جنگ شروع کی تھی اور انہوں نے ہی بہت سارے دیہاتوں جلانا اور تباہ کرنا شروع کیا تھا۔

دریں اثناء دارفور کے علاقے میں بی بی سی نے قتلِ عام اور زنا بالجبر کے نئے شواہد ڈھونڈے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس بارے میں تشویش اور بڑھ گئی ہے کہ قتلِ عام اب تک ہو رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایک قصبے میں گئے جہاں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ کم از کم اسی بچوں اور بہت سے بالغ مرد اور عورتوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد