قتلِ عام نہیں ہوا: موسیٰ ہلال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوڈان کے دارفور علاقے میں قتلِ عام کا مبینہ طور پر حکم دینے والے قبائلی رہنما نے کہا ہے کہ قتلِ عام کے الزامات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔ موسیٰ ہلال نے، جن پر امریکی وزارتِ خارجہ کو شبہ ہے کہ وہ عرب جنجاوید ملیشیا کے رہنما ہیں، بی بی سی پینوراما پروگرام میں بتایا کہ علاقے میں ہلاکتیں اصل میں جنگ کی بازگشت ہے۔ موسیٰ ہلال سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں رہتے ہیں اور ان کے متعلق خیال ہے کہ وہ جنجاوید ملیشیا کے سولہ اڈوں میں سے ایک اڈا چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں ذرائع ابلاغ اور مغرب پر الزام لگایا کہ وہ حالات کو بدتر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’قبریں اور لاشیں کہاں ہیں؟ ہاں، اس جنگ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن اتنی نہیں جتنی بتائی جا رہی ہیں‘۔ تینتالیس سالہ موسیٰ ہلال نے الزام لگایا کہ دارفور میں ہلاکتوں کی ذمہ دار سوڈان لبریشن آرمی ہے جس نے بقول انکے یہ لڑائی شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بارے میں میرا موقف بہت واضح ہے کہ جنگ کا اپنا ردِ عمل ہوتا ہے‘۔ ’باغیوں نے یہ جنگ شروع کی تھی اور انہوں نے ہی بہت سارے دیہاتوں جلانا اور تباہ کرنا شروع کیا تھا۔ دریں اثناء دارفور کے علاقے میں بی بی سی نے قتلِ عام اور زنا بالجبر کے نئے شواہد ڈھونڈے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس بارے میں تشویش اور بڑھ گئی ہے کہ قتلِ عام اب تک ہو رہا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایک قصبے میں گئے جہاں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ کم از کم اسی بچوں اور بہت سے بالغ مرد اور عورتوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||