سوڈان کو امریکی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے اگر سوڈان نے اقوام متحدہ کی امن فوج کو خطے میں تعینات کرنے میں اپنی رکاوٹیں جاری رکھی تو وہ ’دوسرے اقدامات‘ کرنے پر غور کرے گا۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ نے ان ’دوسرے اقدامات‘ کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔ البتہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کے ایک ترجمان نے کہا کہ منصوبہ بی کے تحت خطے میں نو فلائی زون قائم کیا جاسکتا ہے۔ خیال ہے کہ واشنگٹن میں دارفور کی صورت حال پر تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ دارفور کے لیے صدر بش کے خصوصی ایلچی اینڈریو نٹسیواس نے حال میں خرطوم کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر عمر البشیر سے عالمی امن فوج کی تعیناتی پر زور ڈالا ۔
اگرچہ دوسرے اقدامات کے متعلق ابھی واضح طور نہیں بتایا گیا ہے لیکن خیال ہے کہ اس میں سوڈان کی بحری ناکہ بندی یا فضائی حملہ شامل ہوسکتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کو ان اقدامات کی حمایت کرنی ہوگی۔ اس سے قبل جینیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دارفور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجا جائے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کو مطابق تین سال سے جاری لڑائی میں کم از کم بیس لاکھ افراد بےگھر اور دو لاکھ کے قریب ہلاک ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں جینیوا میں دارفور پر ہنگامی اجلاس13 December, 2006 | آس پاس ’اقوام متحدہ افریقہ کی مدد کرے‘17 November, 2006 | آس پاس دارفور میں 27 ’بچوں کا قتل‘04 November, 2006 | آس پاس سفیر کو سوڈان چھوڑنے کا حکم22 October, 2006 | آس پاس نئے سیکریٹری جنرل کی نامزدگی09 October, 2006 | آس پاس جنگیں، 43 ملین بچے سکول سے باہر12 September, 2006 | آس پاس دارفور میں امن سمجھوتہ طے پا گیا06 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||