BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 October, 2006, 17:52 GMT 22:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے سیکریٹری جنرل کی نامزدگی
مسٹر با کیمون
مسٹر با کیمون 1971 کے بعد پہلے ایشیائی سیکریٹری جنرل ہوں گے
جنوبی کوریا کے وزیرخارجہ بان کیمون کو کوفی عنان کی جگہ اقوام متحدہ کا نیا سیکریٹری جنرل نامزد کر دیا گیا ہے۔

اب امید ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی رواں ہفتے کے دوران ان کی تقرری کے لئے ووٹ ڈالے گی۔

ان کے پیشرو کوفی عنان اکتیس دسمبر کو دس سال تک سیکریٹری جنرل رہنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بان کیمون کو ورثہ میں ایک ایسی اقوام متحدہ ملے گی جس کے اہم اہداف میں دارفور، ایران اور اقوام متحدہ میں اصلاحات شامل ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی پندرہ رکنی کونسل نے بان کی مون کی آٹھویں سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے نامزدگی کی منظوری دے دی ہے۔

جنوبی کوریا کے باسٹھ سالہ وزیر خارجہ نے کونسل کی غیر رسمی ووٹنگ کے چاروں ادوار میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اس عہدے کے باقی پانچ امیدواروں نے خود کو اس مقابلے سے باہر کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ میں اس بات پر وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ادارے کا اگلا سیکریٹری جنرل بر اعظم ایشیاء سے ہونا چاہیئے۔ اس سے قبل برما کے یو تھانٹ واحد ایشیائی سیکریٹری جنرل تھے جو اس عہدے پر انیس سو اکسٹھ سےانیس سو اکہتر تک تعینات رہے۔

اپنی نامزدگی کے بعد بات کرتے ہوئے مسٹر بان نے کہا کہ یہ اننتخاب ان کے لئے اعزاز کی بات ہے اور یہ کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری دھماکے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

مسٹر بان کے مطابق اگر ان کی تقرری ہو جاتی ہے تو وہ شمالی کوریا کے جوہری معاملے سمیت، جو کہ عالمی امن کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے، تمام مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

مسٹر بان ایک منجھے ہوئے سفارتکار ہیں جو ترقی کرتے کرتے جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ بنے۔

اپنے آئندہ کردار کی کچھ مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کو ایک زیادہ موثر اور مستعد ادارہ بناے کا وعدہ کرتے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر بان ایک ایسی تنظیم کے سربراہ بن رہے ہیں جسے سوڈان اور لبنان سمیت دنیا کے کئی پیچیدہ ترین مسائل کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد