ایران: لبنان قرارداد کی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے دورۂ ایران کا اختتام صدر احمدی نژاد کی طرف سے اس یقین دہانی پر ہوا ہے کہ ایران لبنان میں اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کی حمایت کرے گا۔ لیکن اس سلسلے میں حزب اللہ کو اسلحہ کی فراہمی یا اسے غیر مسلح کرنے کا کوئی خاص ذکر نہیں تھا۔ کوفی عنان کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر نے لبنان کی علاقائی سالمیت اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی کے بعد تعمیر نو کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ایران نے دوبارہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر جاری تنازعہ کے حل کے لیئے رضامند ہے۔ کوفی عنان سنیچر کو تہران پہنچے تھے لیکن اقوام متحدہ کی توقع کے برعکس دورے کے دوران کوفی عنان اور ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنئی کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہو سکی۔ دورے کے اختتام سے قبل صدر احمدی نژاد سے ملاقات کے بعد کوفی عنان نے کہا تھا کہ ایران اپنے یورینیم افزودگی پروگرام پر بات چیت کے لیئے تیار ہے لیکن وہ ایسے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے اپنا پروگرام روکے گا نہیں۔ ایران حزب اللہ کا سب سے بڑا حمایتی ہے اور عام خیال یہی ہے کہ حزب اللہ کو اسلحہ ایران ہی دیتا رہا ہے۔ احمدی نژاد سے بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ ایرانی صدر اس بات پر رضامند ہیں کہ ایران ’لبنان کی علاقائی سالمیت، اس کی آزادی اور اس کی تعمیر نو کے لیئے ہر ممکن مدد کرے گا۔‘ کوفی عنان کے مطابق ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور صدر نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ایران یہ کردار ادا کرے گا۔ جوہری معاملہ پر کوفی عنان کے مطابق ایرانی صدر نے ’مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران مذکرات کرنے کے لیئے مکمل طور پر تیار اور اس کی خواہش ہے کہ یہ تنازعہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو۔‘ ادھر یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جیوئر سلونا اگلے ہفتے ایران کے سب سے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار علی لاریجانی سے اہم ملاقات کر رہے ہیں۔ کوفی عنان نے مزید کہا کہ صدر احمدی نژاد نے اس بات پر زور دیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو معطل نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک قرارداد اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایران مذاکرات سے پہلے اپنا یہ پروگرام بند کرے۔ اس کے علاوہ کوفی عنان کے دورے کے دوران ہالوکاسٹ کا معاملہ بھی سامنے آیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایک کانفرنس کے انعقاد میں تعاون کرے گا جس میں ہالوکاسٹ کے ہونے کے سائنسی ثبوت پیش کیئے جائیں کیونکہ صدر احمدی نژاد کے بقول ہالو کاسٹ کے واقعات کو بڑہا چڑہا کر بیان کیا جاتا ہے۔ کوفی عنان نے اس معاملے کو پیغمبر اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے معاملے سے جوڑا اور کہا کہ کاٹون تنازعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آزادی اظہار کے معاملے میں ’ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیئے۔‘ ان دنوں تہران میں ہالو کاسٹ کے موضوع پر کارٹونوں کی ایک نمائش بھی ہو رہی ہے۔ کوفی عنان نے مزید کہا ’میرا خیال ہے کہ ہالوکاسٹ کا المیہ ایک دکھ انگیز تاریخی حقیقت ہے اس لیئے ہمیں اسے ایسے ہی دیکھنا چاہیے۔‘ ’ہمیں احتیاط برتنے کی ضروت ہے۔ الفاظ مرہم کا کام بھی دے سکتے ہیں اور دوسروں کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جسے نفرت اور تشدد پھیلانے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔‘ | اسی بارے میں کوفی عنان تہران پہنچ رہے ہیں02 September, 2006 | آس پاس ڈیڈلائن ختم، ایران موقف پر قائم31 August, 2006 | آس پاس محمد خاتمی کو امریکی ویزہ30 August, 2006 | آس پاس اسرائیل نے کلسٹر بم استعمال کیئے31 August, 2006 | آس پاس اسرائیل ناکہ بندی ختم کرے: عنان30 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||