 | | | اسرائیل نے ابھی بحری اور فضائی ناکہ بندی جاری رکھا ہے |
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے یروشلم میں اپنی ملاقات کے دوران اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ لبنان کا فضائی اور بحری ناکہ بندی ختم کرے۔ کوفی عنان نے وزیر دفاع عمیر پیریٹز سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’بےعزت‘ کرنے والی ناکہ بندی جتنی ممکن ہو ختم کی جائے۔ اس سے پہلے اسرائیل نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو دوبارہ مسلح کرنے کے اس کے خدشات کو دور کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران فائربندی کی خلاف ورزیوں کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا۔عنان نے یہ بھی کہا کہ جنوبی لبنان میں موجود امن فوجیوں کی تعداد دوگنی کرکے جلد ہی پانچ ہزار کردی جائے گی۔  |  اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران فائربندی کی خلاف ورزیوں کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا۔عنان نے یہ بھی کہا کہ جنوبی لبنان میں موجود امن فوجیوں کی تعداد دوگنی کرکے جلد ہی پانچ ہزار کردی جائے گی۔  |
کوفی عنان اسرائیلی وزیر دفاع عمیر پیریٹز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ جنوبی لبنان میں عالمی امن فوج کی مناسب تعداد کے پہنچتے ہی اسرائیلی فوج وہاں سے واپس ہوجائے گی۔کوفی عنان بدھ کے روز اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ منگل کو عنان نے ان دو اسرائیلی فوجیوں کے رشتہ داروں سے ملاقات کی جنہیں حزب اللہ نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور اس کے نتیجے میں جنگ چھڑ گئی تھی۔ عنان نے حزب اللہ سے اپیل کی کہ جتنا جلد ہو دونوں فوجیوں کو رہا کردے۔ کوفی عنان مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائربندی کو مستقل بنایا جاسکے۔ یہ فائربندی اقوام متحدہ نے چونتیس دنوں کی حالیہ جنگ ختم کرانے کے لیے کرائی ہے۔
|