اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے ابتدائی مرحلے میں جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ بان کی مون کامیاب رہے ہیں۔ یہ ووٹنگ کا غیر رسمی مرحلہ ہوتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ اس میں کامیاب ہونے والا امیدوار ہی آگے کے مرحلے میں جیت جاتا ہے۔ اس مرحلے میں کوریا کے وزیر خارجہ واحد امیدوار تھے جنہوں نے سلامتی کوسنل کے پانچوں مستقل اراکین یعنی امریکہ، چین، روس، فرانس اور برطانیہ کی حمایت حاصل کر لی۔ مسٹر کی مون پچھلے تین غیر رسمی بیلٹ میں بھی پہلے نمبر پر رہے۔ ووٹنگ میں سلامتی کوسنل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ دس منتخب اراکین بھی شریک ہوتے ہیں۔ اس عہدے کے لیئے باقی پانچ امیدواروں کو کسی نے کسی ملک نے ویٹو کیا ۔ ان امیدواروں میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل ششی تھرور بھی شامل تھے جو کہ اس عہدے کے لیئے ایک طاقتور امیدوار سمجھے جاتے تھے۔ ان کے حمایت میں دس ووٹ ڈالے گئے اور ان کے خلاف تین ووٹ تھے جن میں ایک ویٹو بھی شامل تھا۔ بیلٹ کے فوراً بعد ششی تھرور نے اس مقابلے سے دست بردار ہبنے کا اعلان کر دیا۔ باقی امیدواروں میں لیٹویا کی صدر وائرہ وائک فرائیبرگ کی حمایت میں پانچ اور مخالفت میں دو ویٹو سمیت چھ ووٹ ملے۔ تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم ستی رتھائی اور افغانستان کے سابق وزیر خزانہ اشرف غنی کی حمایت میں چار چار ووٹ ڈالے گئے۔ اقوام متحدہ میں اردن کے سفیر زید الحسین کو ان کے حق میں صرف تین حامی ووٹ ملک جبکہ ان کے خلاف دو ویٹو تھے۔ سکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیئے ووٹنگ کا عمل پیر نو اکتوبر کو ہوگا۔ کوفی عنان کی اس عہدے پر دس سالہ مدت اکتیس جنوری کو ختم ہو جائے گی۔ باسٹھ سالہ بان کی مون ایک قابل سفارتکار سمجھے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’اقوامِ متحدہ کو تبدیل ہونا چاہیے‘21 March, 2005 | آس پاس کوفی عنان کے خلاف دستاویز دستیاب15 June, 2005 | آس پاس ’گوانتانامو کو جلد از جلد بند کیا جائے‘17 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||