جینیوا میں دارفور پر ہنگامی اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل کا ہنگامی اجلاس جس پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ سوڈان کے علاقے دارفور میں جاری لڑائی کے بارے میں کوئی اقدام کرے آج (بدھ کو) دوبارہ ہو رہا ہے۔ جینیوا میں ہونے والے کونسل کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا سوڈان میں گزشتہ تین سال سے جاری لڑائی کی وجوہات کی تحقیق کے لیے اقوامِ متحدہ کے سب سے سینیئر اہلکاروں کو وہاں بھیجنا چاہیئے کہ نہیں۔ سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے جو عنقریب سبکدوش ہونے والے ہیں، کونسل پر زور دیا ہے کہ اپنا ایک تفتیش کار دارفور میں بھیجے۔ کوفی عنان نے کہا کہ ’تین سال سے زیادہ عرصے سے دارفور کے باشندے ایک بھیانک خواب سے گزر رہے ہیں۔ گزشہ چند ہفتوں کے دوران لڑائی اور زیادہ بڑھی ہے اور عام لوگوں کی زندگی میں اور بھی زیادہ سختیاں آگئی ہیں۔ کونسل کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقوں کے نام یہ واضح پیغام بھیجے کہ دنیا کو اس صورت حال کا جاری رہنا بالکل منظور نہیں ہے۔اب دارفور کے باشندے ایک دن بھی اس حالت میں نہیں رہ سکتے‘۔
جینیوا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ کوئی عام طرح کی ٹیم نہیں ہو گی بلکہ یہ اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے سب سے ماہر لوگ ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گوانتاناموبے سے لے کر چین اور ازبکستان تک انسانی حقوق کی تحقیقات کرتے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق ان کے پاس بہت زیادہ اخلاقی اتھارٹی ہے اور کوفی عنان چاہتے ہیں کہ یہ لوگ دارفور جائیں۔ تاہم سوڈان نہیں چاہتا کہ اس سطح کی ٹیم اس کی سرزمین پر قدم رکھے۔ سوڈان اقوامِ متحدہ کی امن فوج کو بھی ملک میں داخل ہونے دینا چاہتا۔ جینیوا میں ہونے والے اجلاس میں اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی کونسل سوڈان ٹیم بھیجنے کے متعلق فیصلہ کرے گی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ کونسل کی ساکھ کے لیے ایک ٹیسٹ ہے۔ | اسی بارے میں ’اقوام متحدہ افریقہ کی مدد کرے‘17 November, 2006 | آس پاس دارفور میں 27 ’بچوں کا قتل‘04 November, 2006 | آس پاس سفیر کو سوڈان چھوڑنے کا حکم22 October, 2006 | آس پاس جنگیں، 43 ملین بچے سکول سے باہر12 September, 2006 | آس پاس دارفور: شواہد جمع ہوگئے15 June, 2006 | آس پاس دارفور میں امن سمجھوتہ طے پا گیا06 May, 2006 | آس پاس دارفور ملزمان پر پابندیاں26 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||