 | | | اپنی آواز اٹھانے کے لیے مظاہرین نقلی خون سے بھرے گلاسوں کا استعمال کریں گے |
سوڈان کے علاقے دارفور میں چار برسوں سے جاری تشدد کے خلاف اتوار کے روز دنیا کے پینتیس دارالحکومتوں میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ اتوار کے روز ’انٹرنیشنل ڈے آف ایکشن‘ اس لیے منقعد کیا گیا ہے کہ دنیا کی توجہ دارفور کی جانب دلائی جاسکے جہاں اقوام متحدہ کے مطابق دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور بیس لاکھ بےگھر ہوگئے ہیں۔ دارفور کے مقامی باشندوں کو سوڈانی حکومت کی حمایت یافتہ عرب نژاد ملیشیا ’جنجاوید‘ کی زیادتیوں کا سامنا ہے۔ اتوار کے مظاہرین سوڈان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ جنجاوید ملیشیا کو غیرمسلح کرے اور شہریوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ مظاہرین کا نعرہ ہوگا: ’ٹائم اِز اپ۔۔۔ پروٹیکٹ دارفور‘ یعنی ’بس۔۔۔ اب دارفور کا تحفظ کریں‘۔ دارفور کے باشندوں کے تحفظ کے لیے اتوار کے مظاہرین کی قیادت گلوکار مِک جیگر اور اداکار جارج کلونی کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان پر دستخط کیا ہے جس میں بین الاقوامی برادری پر بےحسی کا الزام لگایا گیا ہے۔  | عالمی برادری پر بےحسی کا الزام  دارفور کے باشندوں کے تحفظ کے لیے اتوار کے مظاہرین کی قیادت گلوکار مِک جیگر اور اداکار جارج کلونی کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان پر دستخط کیا ہے جس میں بین الاقوامی برادری پر بےحسی کا الزام لگایا گیا ہے۔  |
مظاہرین اپنی آواز اٹھانے کے لیے نقلی خون سے بھرے گلاسوں کا استعمال کرنے والے ہیں۔ اس سلسلے میں لندن میں وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دفتر کے سامنے دن کے بارہ بجے ایک ریلی نکالی جارہی ہے۔برلن کے سونی سینٹر میں ایک تقریب منقعد کی جارہی ہے جہاں سیاح دارفور سے متعلق معلومات حاصل کرسکیں گے۔ جبکہ اٹلی کے شہر روم میں ایک مارچ منقعد کیا جائے گا۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں کئی پروگرام منقعد ہوں گے اور ’جہاد آن ہارس بیک‘ نامی ایک دستاویز فلم دکھائی جائے گی جس میں دارفور کے متاثرین کی آپ بیتی ہے۔ نائیجریا کے شہر ابوجہ میں سوڈان کے سفارت خانے کے باہر بھی ایک مظاہرہ منقعد کیا گیا ہے۔ دارفور کا تشدد اب سوڈان کی سرحدوں سے پڑوسی ممالک میں پھیلنے لگا ہے۔ گزشتہ سال سوڈان راضی ہوگیا تھا کہ افریکن یونین اور اقوام متحدہ کی ایک مشترکہ فوج دارفور بھیجی جائے لیکن بعد میں سوڈان نے اصرار کیا کہ اس فوج میں اقوام متحدہ کو اہم کردار نہ دیا جائے۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں واشنگٹن، بیجنگ، نیویارک اور خرطوم کے درمیان کافی سفارتی کوششیں ہوئی ہیں تاکہ سوڈان کی حکومت پر عالمی دباؤ بڑھایا جاسکے۔
|