BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دارفور: عالمی برادری کیا کرے؟
دس ہزار مقامی باشندے ہلاک ہوئے ہیں اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے ہیں
دس ہزار مقامی باشندے ہلاک ہوئے ہیں اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے ہیں
امریکی کانگریس نے سوڈان کے دارفور علاقے میں عرب نژاد ملیشیا کے ہاتھوں مقامی باشندوں کے ساتھ ہونیوالے تشدد اور زیادتی نہ رکنے پر سوڈان کے خلاف پابندیاں لگانے کی اپیل کی ہے۔

امریکی کانگریس کی ایک قرارداد میں حکومت حامی عرب نژاد جنجاوید نامی عرب ملیشیا کی زیادتوں کی مذمت کی گئی ہے اور اسے ’’قتل عام’’ قرار دیا گیا ہے۔ دارفور میں دس ہزار سے زیادہ لوگ ملیشیا کے ہاتھوں مارے گئے ہیں اور دس لاکھ سے زیادہ بےگھر ہوگئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ ابھی ان زیادتیوں کو ’’قتل عام’’ نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ اس بات کو مان لے کہ قتل عام ہورہا ہے تو اسے قانونی طور پر اسے روکنے کے لئے اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ سوڈان کی حکومت نے امریکہ اور برطانیہ کو انتباہ کیا ہے کہ اس معاملے میں مداخلت نہ کریں۔

کیا آپ کی نظر میں دارفور میں ہونیوالی زیادتیوں کو قتل عام قرار دیا جاسکتا ہے؟ بین الاقوامی برادری کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا امریکہ اور برطانیہ کو اس میں مداخلت کرنی چاہئے؟ کیا قتل عام اور دیگر لسانی بحث میں پڑنا بین الاقوامی برادری کیلئے ضروری ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


عمران سیال، کراچی: جانی انسانوں کا اس طرح ضیاع ہونا بڑے دکھ کی بات ہے۔ اقوام متحدہ صرف نام کا ادارہ ہے کام کا نہیں۔

علی رضا علوی، اسلام آباد:
یہ سراسر ظلم ہے۔ یہ قتل عام بند ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی یہ توجیح کسی لطیفے سے کم نہیں کہ ہم اسے اس لئے قتل عام نہیں مانتے کہ فوج بھیجنی پڑے گی۔ اس سے بڑی بے حسی کیا ہو گی؟

ہارون رشید، سیالکوٹ:
ہمیں انسانوں کی مدد کرنی چاہیے چاہے وہ کوئی بھی ہوں اور ان کا تعلق کہیں سے بھی ہو۔

حماد رضا بخاری، فیصل آباد:
ایسا لگتا ہے کہ بین اقوامی برداری بھی اقربا پرور اور جانبدار ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھی صرف اپنے دوست ممالک کی حمایت کا پرچم بلند ہوتا ہے۔

جسونت سنگھ، پاکستان:
میرے خیال میں عالمی طاقتوں کو فوری اقدام کرنا چاہیے تاکہ دار فور کو اکیسویں صدی کا روانڈا بننے سے روکا جا سکے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ: یقینا یہ بھی ظلم ہے۔ لیکن کیا اسرائیل اور امریکہ کے ظلم سے زیادہ ہے؟ اقوام متحدہ اور مسلم ممالک امن کی بانسری بجاتے رہیں گے اور امریکہ کو پھر ایک اور موقع مل جائے گا کسی بھی مسلم ملک پر اٹیک کرنے کیلئے۔

زاہد خان، نیویارک: ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ دارفور میں ظلم کا شکار ہونے والے بھی انسان ہیں اور ان کے ساتھ ہونیوالا ظلم ہر قیمت پر رکنا چاہئے۔ کیا دنیا میں انصاف صرف سفید چمڑی والوں کے لئے ہے؟ عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی ہرگز قبول نہیں ہے۔ اس کی ساری ذمہ داری سوڈان کی حکومت پر عاید ہوتی ہے۔

نامعلوم: اسلامی ممالک کو فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال: یہ بہت بڑی زیادتی اور ظلم ہے اور امریکہ اور اقوام متحدہ کو اس معاملے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، ورنہ جس طرح دنیا کے دوسرے علاقوں میں ظلم ہورہا ہے ہوتا رہے گا، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، عراق، افریقہ، فلسطین وغیرہ۔

عبیداللہ، پاکستان: ظلم کہیں بھی ہو قابل مذمت ہے۔ بہرحال سوڈان کی حکومت کان اندرونی مسئلہ ہے اور امریکہ اور برطانیہ کبھی بھی انسانیت کے ساتھ مخلص نہیں رہے۔ یہ دونوں یہاں بھی مشرقی تیمور جیسا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

یکساں رویہ اپنائیں
 دارفور میں معصوم لوگوں کا قتل عام فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے، چاہے جیسے بھی ہو، ملٹری یا سفارتی طور پر۔ لیکن رول آف گیم سب کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔
نادر سید، حیدرآباد سندھ

نادر سید، حیدرآباد سندھ: دارفور میں معصوم لوگوں کا قتل عام فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے، چاہے جیسے بھی ہو، ملٹری یا سفارتی طور پر۔ لیکن رول آف گیم سب کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی اور ایک عرب ملیشیا کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جائے؟ عالمی امن کو اب سے بڑا خطرہ کبھی نہیں رہا ہے۔ اگر مغرب اپنا ڈبل اسٹنڈرڈ ترک کردے تو یہ دنیا سب کے لئے بہتر ہوسکتی ہے۔

ضیاء الرحمان، پشاور: امریکی کانگریس کیا افغانستان اور عراق کی باری میں سوچنے سے فارغ ہوگئی ہے کہ اب سوڈان کی باری میں سوچنا شروع کردیا ہے۔ امریکہ اپنا اعتبار کھوچکا ہے۔ اب مسلمان ممالک کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو منصفانہ طور پر حمل کریں۔

کاشف مجوکہ، سرگودھا: بہت ہوچکا، انسانیت کی ضرورت ہے۔

عبدالصمد، اوسلو: پہلے مغربی ممالک انہیں گوریلوں کو اسلحہ سے لیس کرتے ہیں اور بعد میں قتل عام کو ایشو بناکر وہاں مداخلت کا جواز پیدا کرتے ہیں۔ اور ہم مسلمان ہیں جو ان کے داؤ میں بار بار گرفتار ہوجاتے ہیں اور یہی ملک وہیں پر مداخلت کرتے ہیں جہاں پر انہیں تیل اور دیگر منرل وافر مقدار میں مل جاتے ہیں۔

طارق خواجہ، امریکہ: امریکہ اور برطانیہ کو سوڈان میں مداخلت کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ خود امریکہ اور برطانیہ تارکین وطن خصوصا مسلمان ممالک سے آنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔

محمد علی، پاکستان: امریکن کانگریس کو فلسطین، کشمیر اور خود افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ نظر نہیں آرہا ہے؟ ویسے ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

عمر فاروق، برمنگھم: اللہ تعالی مسلمانوں کو صحیح راستہ دکھائے، ہم اور کیا کرسکتے ہیں؟ یہاں کوئی تیل نہیں ہے اس لئے مغرب کی کوئی دلچسپی نہیں، معیشت بہتر نہیں تاکہ امریکہ مارکیٹ کو بچانے کے لئے کود پڑے، یہاں صرف غربت اور فاقہ کشی ہے۔ مسلم ممالک او آئی سی کے تحت کچھ کریں۔

کشمیر؟ فلسطین؟
 زیادتی جہاں بھی ہو، چاہے دارفور ہو یا کشمیر یا فلسطین، ہم ان کے خلاف ہیں اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن ظلم اور زیادتی کے خلاف جو عالمی فورم ہے، اقوام متحدہ وہاں فیصلہ کن کردار ادا کرے۔
سعید کھٹک، نوشہرہ

سعید کھٹک، نوشہرہ: زیادتی جہاں بھی ہو، چاہے دارفور ہو یا کشمیر یا فلسطین، ہم ان کے خلاف ہیں اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن ظلم اور زیادتی کے خلاف جو عالمی فورم ہے، اقوام متحدہ وہاں فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ کسی اور ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مسلم ممالک میں تو بہانہ بناکر چڑھائی کردے اور اسرائیل ان کو نظر نہیں آتا ہے۔۔۔۔

عرفان خواجہ، لاہور: میرے خیال میں سوڈان عرب نژاد ملیشیا کو غیرمسلح کرے اور صدام حسین کی طرح رویہ نہ اپنائے جس کی وجہ سے سوڈانی عوام کو بیرونی مداخلت یا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ اسلام میں عرب اور عجم کے درمیان تفریق کی گنجائش نہیں ہے۔

ہارون نواب ملک، اسلام آباد: کہیں بھی ظلم ہو، آنکھ اپنی اشک بار ہو۔ ظلم کو روکنے کے لئے تمام ممالک کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیکن امریکہ اور اس کی بندی اقوام متحدہ کا کردار کہیں ٹھیک نہیں رہا: کشمیر، فلسطین، عراق اور افغانستان کو دیکھ لیں۔ امن کے نام نہاد عالمی چیمپیئن امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ والے سب کے سب بےضمیر ہیں۔

محمد فدا فدا، کینیڈا: چاہے یہ ہندوستان میں ہو، ایران، افریقہ، چین یا روس، ہرجگہ یہ لوگ تلوار کی زور پر آئے اور قابض ہوگئے اور کبھی کسی دوسرے فلسفے کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔۔۔۔ بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ ایسے سیاسی گروہوں اور ملیشیا پر فوری پابندی عائد کرے۔

شمش جیلانی، کینیڈا: ظلم ظلم ہے، ہر جگہ قابل مذمت ہے۔ کیا فلسطین میں نہیں ہورہا ہے؟ اس کے بارے میں امریکی کانگریس کا کیا خیال ہے؟

زاہد خان، نیویارک: دارفور میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انسانیت کے خلاف ظلم ہے۔ ان لوگوں کا ہاتھ ضرور روکنا چاہئے۔ چاہے وہ امریکہ کرے یا کوئی اور ملک۔ لیکن اگر یہ سب ممکن نہیں ہے تو پھر طاقت کا استعمال ضروری ہوگا۔ آخر یہ ملک کب تک اس طرح کی آگ میں جلتا رہے گا؟

اقوام متحدہ کردار ادا کرے
 دارفور کی طرح دوسرے کئی ملکوں میں اس طرح کے قتل عام ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کو اس مسئلہ میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہئے۔ امریکہ اور برطانیہ بھی اس دنیا کی برادری میں شامل ہیں، انہیں بھی بین الاقوامی برادری کے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔
شیریار خان، سنگاپور

شیریار خان، سنگاپور: دنیا میں اس وقت صرف امریکہ اور برطانیہ کا زور ہے۔ ان دونوں ممالک نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اقوام متحدہ اس وقت بالکل رسمی بن کر رہ گئی ہے۔ دارفور کی طرح دوسرے کئی ملکوں میں اس طرح کے قتل عام ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کو اس مسئلہ میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہئے۔ امریکہ اور برطانیہ بھی اس دنیا کی برادری میں شامل ہیں، انہیں بھی بین الاقوامی برادری کے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔ قتل عام چاہے کسی بھی ملک میں ہورہا ہو بین الاقوامی برادری کو اس کو روکنا چاہئے۔ دنیا کی قوموں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم سب ایک ماڈرن، تعلیم یافتہ اور الیکٹرانک دنیا کے باسی ہیں۔ ہم کب تلک پتھر کے دور کی روایات کو اپنے ساتھ چمٹا کر رکھیں گے۔

عیسیٰ خان، وارنگل، آندھر پردیش: دارفور میں کچھ بھی صرف اقوام متحدہ کو کرنا چاہئے۔ باقی ملکوں کیلئے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد