’زندگی جہنم بن گئی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے امن کے عالمی دن کے بارے میں سنا تو ہے مگر میں اس کی اصل تاریخ سے واقف نہیں ہوں۔ اس دن کو عالمی سطح پر منایا جانا چاہیے اور عالمی میڈیا کی طرف سے اسے زیادہ کوریج ملنی چاہیے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری دنیا کو آج امن کی جتنی ضرورت ہے اتنی شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔ جنوبی سوڈان میں آج سے پچاس سال پہلے جنگ شروع ہوئی تھی، اور اب دارفور جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ ہمارے ملک پر جنگ اور تشدد نے جو نشان چھوڑے ہیں انہیں مٹانے کے لیے اور قومی سطح پر ہم آہنگی اور مفاحمت کو فروغ دینے کے لیے بہت محنت اور پر خلوص کوششیں کرنی ہوں گی۔ اس عمل کے تحت دارفور، نوبا کی پہاڑیوں اور جنوبی سوڈان میں ہونے والے قتل عام اور نسل کشی پر بھی روشنی ڈالی جانی چاہیے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد دارفاور میں زندگی جہنم بن گئی ہے۔ پچیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں اور اب پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ چار لاکھ سے زیادہ لوگ ہمسایہ ملک چاڈ میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور لاھائی لاکھ سے زائد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہر ماہ اوسطاً دس ہزار لوگ تشدد، رلیف تک رسائی نہ ہونے، بیماریوں کے پھیلاؤ اور جان جاوید کے حملوں کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔ عموماً جنگ بندی دیر پا امن کی طرف پہلا قدم ہوتی ہے۔ مگر سوڈان میں حکومت نے جنگ بندی کا استعمال خود کو ایک نئی جنگ کے لیے تیار کرنے کے لیے کیا ہے۔ جنگ بہت ہی خوف ناک ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں جنگ اپنے ساتھ قتل، تشدد اور تباہی لائی ہے۔ جنگ کسی کو نہیں بخشتی، وہ چاہے انسان ہو، جانور ہو، عمارت ہو یا کچھ اور۔ اب ہم امن قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد کے طلبگار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آخر میں جیت امن کی ہی ہوگی۔ عالمی سطح پر عملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ترقی پزیر ممالک کے قرضے معاف کرنا، غربت اور ناخواندگی کے خلاف مہم تیز کرنا اور علاقائی تنازعوں کو سلجھانا نہایت ضروری ہے۔ داخلی سطح پر ہمیں استحکام اور خوش حالی کے لیے جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی اشد ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||