دارفور کے باغی اتحاد کے خواہاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کے روز تنزانیہ میں دارفور کے باغی تحریک کے لیڈروں کی آپس میں اتحاد قائم کرنے کے سلسلے میں بات چیت کا پہلا دور ہوا۔ یہ بات چیت اقوام متحدہ اور افریقی یونین کروا رہے ہیں۔ سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشیر جین ایلائسن کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس بات چیت سے خارتوم حکومت کے ساتھ امن قائم کرنے کے بارے میں بات چیت کے لیے راہ ہموار ہوگی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے آنے والے ہفتوں اور مہینوں کو دارفور میں امن کی کوششوں کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کے جب تک دارفور میں جنگی کارووائیوں کا سلسہ جاری رہے گا تب تک کسی طرح سیاسی حل یا امن قائم کرنا مشکل ہے۔‘ سوڈان لبریشن تحریک (ایس ایل ایم) کے عبدالواحد محمد احمد النور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا آروشہ جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جہاں یہ بات چیت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بات چیت میں حصہ لینے سے قبل دارفور میں ہونے والے قتل و غارت کو روکا جائے۔ اروشہ سے بی بی سی کی نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ بات چیت عبدالواحد محمد احمد النور کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہے۔ چار سال کی جنگ کے خاتمے کے بارے میں حکومت سے گفتگو کی نا کامی کی اہم وجہ باغیوں کی باہم اختلاف قرار دی گئی ہے۔ 2003 میں کم از کم دو لاکھ ایک درجن سے زائد باغی گروہوں کے کمانڈروں کو تنزانیہ میں ہونے والی تین روزہ میٹنگ میں بلایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشیر نے کہا ہے کہ خارطوم کے ساتھ امن مذاکرات چار ہفتے میں شروع ہو جانے چاہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اگر کامیاب ہوئے تو یہ بہت بڑا قدم ہوگا۔ |
اسی بارے میں دارفور میں امن سمجھوتہ طے پا گیا06 May, 2006 | آس پاس سوڈان کو امریکی دھمکی14 December, 2006 | آس پاس جینیوا میں دارفور پر ہنگامی اجلاس13 December, 2006 | آس پاس دارفور کے لیے دنیا بھر میں مظاہرے29 April, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||